وزیراعظم شہباز شریف نے دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کو ’’سراسر سفاک اور غیرقانونی اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے قطر کے دارالحکومت میں رہائشی علاقے پر بمباری پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، جس سے شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ انہوں نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، شاہی خاندان اور عوام سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ یہ حملہ ’’مکمل طور پر ناجائز‘‘ اور قطر کی علاقائی سالمیت کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان قطر اور فلسطین دونوں کے ساتھ اسرائیلی ’’جارحیت‘‘ کے خلاف کھڑا ہے۔
اسرائیلی فوج نے شِن بیت سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ مل کر اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہدف حماس کے اعلیٰ رہنما تھے۔ تاہم حماس نے کہا کہ اس کی قیادت اس ’’بزدلانہ قتل کی کوشش‘‘ سے محفوظ رہی۔ حماس کے عہدیدار سہیل الہندی کے مطابق، سینیئر مذاکرات کار خلیل الحیّه کے بیٹے اور ان کے معاون اس حملے میں جاں بحق ہوئے۔
یہ واقعہ خطے میں تشویش کی لہر دوڑا رہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
