نئی دہلی، 13 اگست — بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اگلے ماہ امریکہ کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق ملاقات میں تجارتی اور محصولات سے متعلق کشیدگی بنیادی ایجنڈا ہوگا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے تاحال مودی کی شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ جنرل ڈبیٹ میں سربراہانِ حکومت کے لیے ابتدائی فہرست تیار کی جاتی ہے، جس میں مودی کا نام شامل ہے، مگر اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ جنرل اسمبلی 9 ستمبر کو شروع ہوگی جبکہ سربراہان کا اجلاس 23 سے 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی محصولات عائد کر کے کل شرح 50 فیصد تک پہنچا دی، جو کسی بھی امریکی تجارتی شراکت دار پر سب سے زیادہ میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اقدام بھارت کی روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے پر سزا کے طور پر اٹھایا گیا۔
واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی مذاکرات پانچ دور کے بعد ناکام ہو چکے ہیں، جن میں بھارت کے زرعی اور ڈیری سیکٹرز کی رسائی اور روسی تیل کی درآمدات کا معاملہ اہم رکاوٹ رہا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ بھارت سمیت کئی بڑے تجارتی معاہدے زیر التوا ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ اکتوبر کے آخر تک بات چیت مکمل کر لی جائے گی۔
