پشاور ہائی کورٹ کی ایبٹ آباد بینچ نے خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کی نجکاری سے متعلق نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے، جس سے یہ پالیسی اگلے احکامات تک مؤخر ہو گئی ہے۔
عدالت نے کے پی کے چیف سیکریٹری، سیکریٹری ایلیمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ نجکاری منصوبے کے جواز سے متعلق تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔
یہ معطلی اس درخواست کے بعد عمل میں آئی جو ایڈووکیٹس ڈاکٹر محمد اسحاق ذکریا اور سردار شجاع احمد نے دائر کی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اسکولوں کے انتظامات نجی تنظیموں کے حوالے کرنا آئین میں درج مفت اور معیاری تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے دوران بینچ نے مشاہدہ کیا کہ تعلیم ایک بنیادی عوامی خدمت ہے، اور خبردار کیا کہ نجکاری سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک مزید کوئی اقدام نہ کیا جائے۔
درخواست گزار ڈاکٹر ذکریا نے اس فیصلے کو تعلیم کے حق کی فتح قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم کے شعبے کو تجارتی بنانے کے بجائے انفراسٹرکچر کی بہتری، قابل اساتذہ کی بھرتی، اور شفافیت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔
