ایسا ہر روز نہیں ہوتا کہ کسی گلوکار کا انسٹاگرام یا ٹک ٹاک صفحہ کلاس روم جیسا محسوس ہو۔ مگر شہزاد رائے نے یہ کر دکھایا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعلیم، مکالمے اور سیکھنے کی جگہ بنا دیا ہے — اور سچ کہیں تو، یہ آج کل کے انٹرنیٹ پر سب سے تازہ ہوا کا جھونکا لگتا ہے۔
پاپ سنگر سے سماجی مصلح تک کا سفر
شہزاد رائے کا تعلیم کے میدان میں کردار نیا نہیں۔ اپنی تنظیم زندگی ٹرسٹ کے ذریعے وہ برسوں سے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات، نصاب کی بہتری اور اساتذہ کی تربیت پر کام کر رہے ہیں۔
مگر اب، انہوں نے یہ مشن ڈیجیٹل دنیا تک پھیلا دیا ہے۔
ان کے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر اب صرف میوزک یا تقاریب کی جھلکیاں نہیں ملتیں — بلکہ اسکولوں کے مناظر، طلبہ کے مکالمے، اور ایسی گفتگو جو سوچنے پر مجبور کر دے، ہر طرف نظر آتی ہے۔
ایک ویڈیو خاص طور پر وائرل ہوئی، جس میں زندگی ٹرسٹ کی ایک طالبہ نے شہزاد رائے سے پوچھا:
“آپ کس زبان میں خواب دیکھتے ہیں؟”
لڑکی نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ گھر میں پنجابی، اسکول میں اردو، اور کبھی کبھار انگریزی بولتی ہے۔
اس کا سوال اتنا سادہ تھا مگر اتنا گہرا کہ شہزاد رائے بھی کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہ گئے۔
اس ویڈیو نے لاکھوں ناظرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ زبان کا مطلب صرف تلفظ یا لہجہ نہیں، بلکہ شناخت اور احساس بھی ہے۔
جہاں سکرول رک کر سبق بن جاتا ہے
شہزاد رائے کے حالیہ ویڈیوز کسی چھوٹے سے نصاب کی طرح ہیں۔
وہ ایسے موضوعات پر بات کرتے ہیں جو عام طور پر سوشل میڈیا پر کم ہی دکھائی دیتے ہیں:
-
سی ایس ایس امیدواروں کی جدوجہد اور تجربات
-
بچوں کے لیے شطرنج کو نصاب میں شامل کرنے کا نظریہ — تاکہ وہ سکرین کے بجائے سوچنے کی عادت ڈالیں
-
طلبہ کی خوداعتمادی اور معاشرتی رویوں پر کھری گفتگو
یہ ویڈیوز مصنوعی یا اداکاری پر مبنی نہیں لگتے۔ ان میں سچائی، سادگی اور مقصد صاف نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا کا نیا چہرہ
ہم سب جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا اکثر شور، تنازع اور لغویات سے بھرا ہوتا ہے۔
مگر شہزاد رائے نے دکھایا کہ یہ پلیٹ فارم سیکھنے اور سوچنے کی جگہ بھی بن سکتا ہے۔
ان کی ویڈیوز میں صرف سبق نہیں ہوتا — بلکہ وہ طلبہ کو بولنے، سوال کرنے اور سوچنے کا موقع دیتے ہیں۔
وہ خود نہیں پڑھاتے، بلکہ طلبہ کو خود استاد بننے دیتے ہیں۔
ایک ماہرِ تعلیم نے آن لائن تبصرہ کیا:
“شہزاد رائے صرف سبق نہیں دے رہے، وہ ایسی نسل بنا رہے ہیں جو بہتر سوال پوچھتی ہے۔”
اسکرین سے آگے کی تعلیم
یہ تمام سرگرمیاں صرف آن لائن نہیں۔
ان کے زندگی ٹرسٹ اسکولز حقیقی طور پر تعلیم میں جدت لا رہے ہیں، جہاں نئے نصاب اور تدریسی طریقے آزمائے جا رہے ہیں۔
اب سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ ان تجربات کو عوامی گفتگو کا حصہ بنا رہے ہیں — تاکہ تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر فون اسکرین پر پہنچے۔
ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا اکثر منفی خبروں، جھوٹ اور تنازعات سے بھرا ہوتا ہے، شہزاد رائے کی یہ “ڈیجیٹل کلاس روم” کوشش ایک تازہ امید کی کرن ہے۔
کیا میں اب اس خبر کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (جیسے انسٹاگرام، فیس بک، ایکس وغیرہ) کے لیے ایک مختصر، پرکشش تشریح اور ہیش ٹیگز تیار کر دوں؟
