اسلام آباد (17 اکتوبر): وزارتِ منصوبہ بندی نے اندازہ لگایا ہے کہ حالیہ سیلابوں سے ملک بھر میں تقریباً 822 ارب روپے (تقریباً 2.9 ارب ڈالر) کے نقصانات ہوئے، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ بات وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ایک تقریب میں بتائی۔
وزیر نے وزارت کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ اور ابتدائی نقصانات کے تخمینے کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شفافیت اور جوابدہی کے فروغ کے لیے اب ہر ماہ کارکردگی رپورٹ جاری کرے گی۔
احسن اقبال کے مطابق زرعی شعبے کو سب سے زیادہ نقصان ہوا، جس کا تخمینہ 430 ارب روپے لگایا گیا، جب کہ انفراسٹرکچر کو 307 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 213 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہوئے، بلوچستان میں 6,000، سندھ میں 3,332 اور خیبر پختونخوا میں 3,200 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی 3,600 سے زائد مکانات متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ 2,267 تعلیمی ادارے تباہ ہوئے اور 0.6 سے 1.2 ملین ٹن چاول کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد سے کم ہو کر 4.2 فیصد تک آگئی، جبکہ محصولات میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو نے 2.884 کھرب روپے جمع کیے جو گزشتہ سال کے 2.563 کھرب روپے سے زیادہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نجی شعبے اور بینکوں کے قرضے 16 فیصد بڑھے ہیں، جو کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کا اشارہ ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں 8.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ سال 2026 کو “اصلاحات اور معیشت کی جدیدیت کا سال” قرار دیا جائے گا تاکہ سرخ فیتے کو ختم کیا جائے، گورننس بہتر بنائی جائے اور کاروبار دوست ماحول قائم کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ "اُڑان پاکستان فریم ورک” کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے، جس کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی پر توجہ دی جائے گی۔
