آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالمیت یا خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) میں منعقدہ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل منیر نے کہا کہ “فتنہ الہندستان” اور “فتنہ الخوارج” بلوچستان میں عوام دشمن اور ترقی مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’’بلوچستان سے دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں،‘‘ آرمی چیف نے کہا۔
فیلڈ مارشل منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے محب وطن اور باہمت عوام ملک کی اصل طاقت ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سماجی و معاشی ترقی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کے کردار کو خصوصی اہمیت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کا مثبت کردار اور نوجوانوں کی شمولیت پائیدار ترقی اور انتہاپسندانہ نظریات کے خاتمے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کا خواہاں ہے لیکن ملکی سرحدوں کی کسی بھی خلاف ورزی پر دو ٹوک اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
ورکشاپ کا اختتام شرکاء اور آرمی چیف کے درمیان کھلے سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔
تحقیقاتی ادارے سی آر ایس ایس (Centre for Research and Security Studies) کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں رواں سال دہشت گردی کے 96 فیصد سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں سب سے زیادہ جانی نقصان بلوچستان میں ہوا۔
