اسلام آباد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفون پر اہم رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی کی کوششوں، خطے کی تازہ صورتحال اور جاری سفارتی رابطوں پر بات کی گئی۔ ایرانی وزارت خارجہ اور پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اسحاق ڈار نے گفتگو میں زور دیا کہ باقی ماندہ مسائل کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔ یہی نکتہ پاکستانی رپورٹنگ میں نمایاں رہا، جہاں کہا گیا کہ اسلام آباد اب بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکراتی راستہ کھلا رکھنے کا حامی ہے۔
ایرانی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ عباس عراقچی اور اسحاق ڈار نے “علاقائی پیش رفت” اور “جنگ بندی سے متعلق امور” پر گفتگو کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رابطہ صرف رسمی خیرسگالی کال نہیں تھا بلکہ اس کا تعلق براہ راست اس وسیع تر سفارتی کوشش سے ہے جس کے تحت خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان خود کو ایک سفارتی سہولت کار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے اور بار بار یہی مؤقف دہرایا کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اسلام آباد کی وسیع تر سفارتی مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس پوری پیش رفت کا پس منظر بھی اہم ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان نے اپریل 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا، جبکہ جنگ بندی کے تسلسل اور آئندہ مذاکرات کے امکانات پر بھی اسلام آباد کا نام بار بار سامنے آتا رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 22 اپریل 2026 کی رپورٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا ذکر پاکستان کی درخواست کے تناظر میں کیا۔
تاہم منظرنامہ اب بھی غیر یقینی ہے۔ 24 اپریل 2026 کی تازہ عالمی رپورٹنگ کے مطابق خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، بحری سلامتی، اسرائیل۔لبنان جنگ بندی اور ایران سے متعلق سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے عراقچی اور ڈار کے درمیان یہ رابطہ معمول کی خبر سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اور اسلام آباد دونوں سفارتی چینل کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
ابھی تک اس گفتگو کے بعد کسی نئے باضابطہ معاہدے، مذاکراتی مقام یا آئندہ دورِ مذاکرات کی تاریخ کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ لیکن ایک واضح پیغام ضرور ملا ہے: پاکستان اور ایران دونوں اس مرحلے پر رابطہ منقطع نہیں کرنا چاہتے، اور جنگ بندی و علاقائی استحکام کے معاملے پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
