22 سالہ فوزیہ ظہور نے متحدہ عرب امارات میں بھاری گاڑی چلانے کا لائسنس حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے، اور وہ اس شعبے میں کم عمر ترین خاتون بن گئی ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ صنفی برابری کی جانب یو اے ای کے بڑھتے ہوئے قدموں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
یہ شعبہ عمومی طور پر مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، لیکن فوزیہ نے اس تاثر کو توڑتے ہوئے نئی راہ دکھائی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی جا رہی ہے اور انہیں نوجوان لڑکیوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
لائسنس کے حصول کے لیے فوزیہ نے کئی ماہ کی سخت تربیت، روڈ ٹیسٹ، اور ٹریفک کے سخت قوانین پر عمل کیا۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جذبہ اور حوصلہ ہو تو کچھ بھی ممکن ہے۔
یو اے ای کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے فوزیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی کی عملی مثال ہے۔
فوزیہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ خواتین کسی بھی میدان میں جانے سے نہ گھبرائیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے قدم بڑھائیں۔ "خواب کا کوئی جنس نہیں ہوتا،” انہوں نے کہا۔
ان کی یہ کامیابی متحدہ عرب امارات کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد خواتین کو ہر شعبے میں برابر مواقع فراہم کرنا ہے۔
فوزیہ ظہور کا نام اب اُن خواتین میں شامل ہو گیا ہے جو اپنی محنت سے نئی تاریخ لکھ رہی ہیں
