بھارتی فلم ساز رام گوپال ورما ایک بار پھر متنازع بیان کے باعث تنقید کی زد میں ہیں۔ اس بار انہوں نے غزہ میں جاری انسانی المیے کا موازنہ بھارت کے مذہبی تہوار دیوالی سے کر کے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔
وہ ٹویٹ جس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا
20 اکتوبر کو رام گوپال ورما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
“In INDIA only one day is DIWALI and in GAZA every day is DIWALI 🔥🔥🔥”
(ترجمہ: “ہندوستان میں صرف ایک دن دیوالی ہوتی ہے، لیکن غزہ میں ہر دن دیوالی ہے۔”)
یہ جملہ پوسٹ ہوتے ہی وائرل ہو گیا اور صارفین نے اسے بے حسی، غیر اخلاقی اور انسانیت کے خلاف مذاق قرار دیا۔
عوامی ردِعمل اور سیاسی تنقید
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے ہدایت کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی جانوں کے ضیاع کو مزاح میں بدل رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا:
“موت کا مذاق اڑانا قابلِ نفرت ہے، دیوالی کو جنگ اور تباہی سے تشبیہ دینا شرمناک ہے۔”
ایک اور نے کہا:
“یہ ظرافت نہیں، سنگدلی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں اور آپ آگ کے ایموجی لگا رہے ہیں؟”
شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما پریانکا چترویدی نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا:
“ذرا سوچیں! دیوالی جیسے مقدس تہوار کا موازنہ غزہ کے جنگی جرائم سے کرنا کتنا غیر حساس عمل ہے۔”
کیوں یہ بیان توہین آمیز سمجھا گیا؟
دیوالی ہندو برادری کا ایک مقدس تہوار ہے جو روشنی کے اندھیرے پر غالب آنے اور نیکی کی بدی پر فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسے غزہ میں جاری بمباری اور تباہی سے جوڑنے پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا، کیونکہ یہ نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے بلکہ غزہ کے معصوم شہریوں کی حقیقی تکالیف کو ہلکا کر کے پیش کرتا ہے۔
رام گوپال ورما اور تنازعات کی تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں جب رام گوپال ورما کسی متنازع بیان کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوئے ہیں۔
سٹی، سرکار، اور کمپنی جیسی فلموں کے ہدایت کار سوشل میڈیا پر اکثر جارحانہ، طنزیہ یا اشتعال انگیز پوسٹس کرتے ہیں۔
کچھ لوگ انہیں “صاف گو” قرار دیتے ہیں، مگر اکثریت کے نزدیک یہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
ابھی تک کوئی معافی نہیں
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ورما نے اب تک اپنی پوسٹ نہ حذف کی ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت یا معذرت پیش کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ان کے لیے ساکھ کے لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ فلم انڈسٹری کے کئی حلقے ان سے دوری اختیار کر لیں۔
بڑی تصویر
یہ تنازعہ صرف ایک ٹویٹ کا معاملہ نہیں — بلکہ یہ اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور سماجی ذمہ داری کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے۔
جب عوامی شخصیات عالمی تنازعات، مذاہب یا انسانی المیوں پر بات کرتی ہیں، تو ان کے الفاظ کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
رام گوپال ورما کا یہ بیان شاید طنز کے طور پر دیا گیا ہو، لیکن ردِعمل نے صاف ظاہر کر دیا کہ جب مذاق انسانی تکلیف سے ٹکرائے، تو وہ مزاح نہیں رہتا — بے حسی بن جاتا ہے۔
