کراچی: حکومتِ سندھ نے امن و امان کی بحالی کے لیے سرینڈر پالیسی 2025 کے تحت بڑے پیمانے پر امن مشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
تقریب میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ڈی آئی جی لاڑکانہ و سکھر، متعلقہ ایس ایس پیز اور اعلیٰ حکام شریک تھے۔
سرینڈر پالیسی کے تحت 72 بدنام زمانہ ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے، جنہوں نے 200 سے زائد اسلحہ پولیس کے حوالے کیا۔ ضبط شدہ اسلحے میں 62 جی تھری رائفلز، 97 ایس ایم جیز، 48 ڈبل بیرل بندوقیں اور 2 آر پی جی لانچر شامل ہیں۔ بھاری ہتھیاروں میں اینٹی ٹینک آر آر-75 اور 12.7 ایم ایم اینٹی ایئرکرافٹ گن بھی شامل ہیں۔
یہ پیش رفت گڑھی تیغو آپریشن کی کامیابی کے بعد سامنے آئی، جو پانچ ماہ تک جاری رہا اور اس دوران 107 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا۔ شکارپور پولیس نے کوٹ شاہو، جگن، کالہورو (مڈیجی) اور بگارجی (سکھر) سمیت متعدد کامیاب آپریشنز کیے۔
نمایاں کارروائی میں بچل بھیو آپریشن کے دوران مشہور ڈاکو شیرُو مہر ہلاک ہوا۔ سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کے سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔
سرینڈر کرنے والوں میں شامل بدنام ڈاکوؤں کے خلاف درج مقدمات اور انعامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
-
نثار سبزوئی: 82 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے۔
-
لادو تیغانی: 93 مقدمات، انعام 20 لاکھ روپے۔
-
سوکھیو تیغانی: 49 مقدمات، انعام 60 لاکھ روپے۔
-
سونارو تیغانی: 26 مقدمات، انعام 60 لاکھ روپے۔
-
جمعو تیغانی: 24 مقدمات، انعام 20 لاکھ روپے۔
-
ملن عرف واجو تیغانی: 29 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے۔
-
گلزار بھورو تیغانی: 14 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے۔
-
غلام حسین عرف نمو تیغانی: انعام 3 لاکھ روپے۔
-
نور دین تیغانی: 6 مقدمات، انعام 15 لاکھ روپے۔
وزیر داخلہ سندھ نے سندھ پولیس کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں رکن اسمبلی امتیاز احمد شیخ، شہریار مہر، عابد بھیو، گل محمد جکھرانی سمیت پیپلز پارٹی کے رہنما اور رینجرز و عسکری حکام بھی شریک ہوئے
