لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان سے متعلق مسلسل تیسرے غیر معمولی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کا سخت نفاذ یقینی بنایا جائے گا اور سوشل میڈیا پر شر انگیزی و نفرت انگیز مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر فوری عملدرآمد ہوگا۔
حکومتِ پنجاب نے انتہا پسند عناصر اور غیر قانونی مقیم غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 پر خصوصی سیل قائم کر دیا ہے۔
اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ ڈالا کلچر، بدمعاشی اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امن کمیٹیوں کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ نچلی سطح پر ہم آہنگی اور امن قائم رکھا جا سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، کومبنگ آپریشنز صرف مخصوص انتہا پسند ذہنیت کے حامل افراد کے خلاف جاری ہیں۔ صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی بین الاقوامی رہائشیوں کی رپورٹس اپ ڈیٹ کریں، جن میں ان کی تجارتی سرگرمیوں، ڈی پورٹیشن اور ٹیکس نیٹ میں شمولیت کی تفصیلات شامل ہوں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام غیر قانونی غیر ملکیوں کو مکان یا دکان کرائے پر نہ دیں، بصورتِ دیگر کرایہ داری اور پاسپورٹ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سائبر کرائم اور دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، جبکہ غیر قانونی اجتماعات یا کاروباری سرگرمیاں بند کرانے والوں پر بھی سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ریاست امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی، اور کسی کو مذہب یا سوشل میڈیا کے نام پر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
