کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں 14 سالہ عرفان نامی لڑکا مبینہ طور پر پولیس کے تشدد سے ہلاک ہوگیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق عرفان کو بدھ کی صبح عائشہ منزل کے علاقے سے اس کے تین رشتہ داروں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ متوفی کے چچا اظہر ضیاء نے بتایا کہ عرفان کا تعلق احمد پور شرقیہ سے تھا اور وہ حالیہ سیلاب کے بعد محنت مزدوری کے لیے کراچی آیا تھا۔
اظہر ضیاء کے مطابق،
“عرفان ناشتہ کرنے کے بعد دوستوں کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا کہ ایس آئی یو اہلکاروں نے مشکوک سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ ان کے موبائل بند کر دیے گئے، اور انہیں گاڑی میں گھماتے ہوئے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔”
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی شام پولیس نے عرفان کے چچا کو فون کر کے ایس آئی یو کے دفتر بلایا اور اطلاع دی کہ عرفان ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا اور بتایا کہ موت دل کے دورے سے ہوئی ہے، تاہم اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ وہ تشدد سے جاں بحق ہوا۔
واقعے کے بعد اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں نے سی آئی اے سینٹر کے باہر احتجاج کیا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
تھانہ صدر پولیس کے مطابق، عرفان کی لاش کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی نگرانی میں کرایا جائے گا تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق، واقعے میں ملوث سات پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی ایس آئی یو سے رابطے کے باوجود رات گئے تک کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
