پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدرِ پاکستان اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد لانے اور حکومت سازی کی منظوری دے دی۔
ایوانِ صدر میں ہونے والے اجلاس کی پہلی نشست چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے، جبکہ دوسری نشست صدر آصف علی زرداری نے صدارت کی۔ اجلاس میں پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی اور ان ہاؤس تبدیلی پر تفصیلی غور کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر وزیراعظم چوہدری انوار الحق مستعفی نہیں ہوتے، تو ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس تحریکِ عدم اعتماد کے لیے درکار عددی اکثریت موجود ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یاسین اور چوہدری لطیف اکبر کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم حتمی اعلان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منگل کے روز کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرِاعظم کے امیدوار کے نام کا اعلان کرنے سے قبل ن لیگ کی قیادت سے مشاورت کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اس مقصد کے لیے احسن اقبال، امیر مقام، اور رانا ثنااللہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔
ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق، اجلاس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، حکومت سازی، اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پارٹی نے اپنی حکومت بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور نیا وزیر اعظم منگل کو اعلان کیا جائے گا۔
