خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے استعفیٰ کے بعد سینیٹ کی خواتین کی مخصوص نشست پر ہونے والا ضمنی انتخاب اُس وقت تنازع کا شکار ہوگیا جب حکومتی وزراء کو بیلٹ بکس میں خالی کاغذ ڈالنے اور بیلٹ پیپر باہر لے جانے کی کوشش کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ، جو کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی ہیں، کو خالی کاغذ بیلٹ بکس میں ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسی دوران حکومتی رکن صوبائی اسمبلی حمید الرحمن نے بھی بیلٹ پیپر باہر لے جانے کی کوشش کی۔
پریذائیڈنگ آفیسر اور صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل نے فوری طور پر دونوں اراکین کو روکا اور پولنگ کا عمل معطل کر دیا۔ بیلٹ بکس کھول کر خالی کاغذ برآمد کیا گیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے معذرت کرتے ہوئے پولنگ کے شفاف انعقاد کی یقین دہانی کرائی، جس پر پولنگ دوبارہ شروع کی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ صوبائی وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے بھی بیلٹ پیپر باہر نکالنے کی کوشش کی، جس پر ایک بار پھر پولنگ روک دی گئی۔ وزیراعلیٰ علی امین دوبارہ جرگہ ہال پہنچے اور ایک مرتبہ پھر معذرت و یقین دہانی کے بعد پولنگ کا عمل بحال کیا گیا۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر نصب سرکاری سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، جس میں یہ تمام مناظر ریکارڈ ہوئے تھے، کو بعد ازاں ڈیلیٹ کر دیا گیا—جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
