پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پی اے ایم آئی) نے میڈیکل ایجوکیشن کے نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی موجودہ پالیسیاں نجی میڈیکل کالجز کے انتظامی امور اور ملک میں مستقبل کے ڈاکٹرز کی فراہمی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ پی اے ایم آئی کے مطابق وہ 118 نجی اداروں کی نمائندگی کرتا ہے جو ملک کے تقریباً 65 فیصد ڈاکٹرز تیار کرتے ہیں، مگر پی ایم ڈی سی کے غیر شفاف اور سخت فیصلوں کے باعث اساتذہ کی تنخواہوں میں تاخیر، بجٹ بحران اور تعلیمی پروگراموں کی ممکنہ بندش جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
پی اے ایم آئی کا کہنا ہے کہ مرکزی انڈکشن سسٹم بروقت داخلوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں نشستیں خالی رہ جاتی ہیں اور ہزاروں اہل طلبہ داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق قانون کے تحت نجی کالجز کو خود داخلے کرنے کا حق حاصل ہے، جس میں ایم ڈی کیٹ کے نمبر 50 فیصد وزن رکھتے ہیں، مگر پی ایم ڈی سی اس حق سے انکار کر رہا ہے، جس کا نتیجہ میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
مزید برآں، پی اے ایم آئی نے نجی میڈیکل کالجز کے لیے سالانہ فیس کی حد 18 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور سرکاری سبسڈی کی عدم دستیابی کے باعث یہ فیس پالیسی نجی اداروں کے لیے پائیدار نہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے سرکاری میڈیکل کالجز کے فی طالب علم اخراجات اور علاقائی و بین الاقوامی فیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ نجی ادارے شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
تنظیم نے یہ بھی الزام لگایا کہ اگرچہ نجی ادارے ملک کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کی اکثریت ہیں، پھر بھی انہیں پی ایم ڈی سی کے پالیسی ساز فورمز میں شامل نہیں کیا جاتا، جس کے نتیجے میں ایسے قواعد بنتے ہیں جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور تعلیمی معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
پی اے ایم آئی نے خبردار کیا ہے کہ داخلوں اور فیسوں پر مسلسل سخت کنٹرول سے اساتذہ کی قلت، ادارہ جاتی تنزلی اور ڈاکٹرز کی تربیت کی گنجائش میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو بالآخر پاکستان کے صحت عامہ کے نظام کو نقصان پہنچائے گی۔ تنظیم نے پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے مشاورت پر مبنی ریگولیشن اپنائے اور اداروں کی خودمختاری کا احترام کرے تاکہ تعلیمی نظام کی پائیداری برقرار رہے اور ملک کی صحت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں میڈیکل ایجوکیشن گورننس پر بحث زور پکڑ چکی ہے اور تعلیمی ادارے شفافیت، مکالمے اور قانونی اصولوں پر مبنی پالیسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
