مس یونیورس 2025 کے دوران ایک تقریب اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب تھائی لینڈ کے پیجینٹ ایگزیکٹو نوات اتساراگریسل (Nawat Itsaragrisil) اور مس میکسیکو فاطمہ بوش (Fátima Bosch) کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا — اور نتیجتاً درجنوں امیدواروں نے، جن میں موجودہ مس یونیورس وِکٹوریا تھیلوگ بھی شامل تھیں، احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر دیا۔
واقعہ بینکاک میں ایک اسپانسر ایونٹ کے دوران پیش آیا۔ نوات نے مس میکسیکو پر الزام لگایا کہ وہ ایک پروموشنل شوٹ میں شریک نہیں ہوئیں، اور انہیں تمام امیدواروں کے سامنے وضاحت دینے کا کہا۔ اس دوران مبینہ طور پر نوات نے انہیں “احمق” (dumb) کہا، جس پر ہال میں خاموشی چھا گئی اور چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔
فاطمہ بوش نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا:
"میرے پاس بھی آواز ہے، اور آپ ایک خاتون کے طور پر میرا احترام نہیں کر رہے۔”
یہ کہہ کر وہ ہال سے باہر چلی گئیں — اور کچھ ہی دیر بعد دیگر امیدواروں نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔
خواتین کی یکجہتی کا مظاہرہ
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد ممالک کی امیدواریں ایک ساتھ اٹھ کر تقریب سے باہر جا رہی ہیں۔
آن لائن صارفین نے اس اقدام کو “خواتین کے احترام” کے لیے جرات مندانہ قدم قرار دیا۔
ایک امیدوار نے بعد میں کہا،
“یہ صرف مس میکسیکو کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ ہر اس خاتون کا تھا جو عزت کی حقدار ہے۔ کسی کو بھی سب کے سامنے اس طرح ذلیل نہیں کیا جانا چاہیے۔”
تھوڑی ہی دیر میں #RespectWomen اور #StandWithMexico جیسے ہیش ٹیگز دنیا بھر میں ٹرینڈ کرنے لگے۔
نوات کی معذرت اور تنظیم کا ردِعمل
شدید تنقید کے بعد نوات نے عوامی سطح پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ان کے رویے سے تکلیف پہنچی تو وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم، ان کا بیان متاثرہ امیدواروں اور عوامی ردِعمل کو کم نہ کر سکا۔
مس یونیورس آرگنائزیشن کے صدر، راول روچا کانتو (Raúl Rocha Cantú) نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے اس رویے کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا اور کہا کہ یہ “خواتین کے احترام اور وقار کے اصولوں کے خلاف ہے۔”
ان کے مطابق نوات کو آئندہ تقریبات میں شرکت سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جب تک تنظیم داخلی طور پر تحقیقات مکمل نہیں کرتی۔
اختیارات اور احترام کا سوال
ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل اس بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے خوبصورتی کے مقابلوں میں موجود ہے — یعنی طاقت کا عدم توازن۔
اکثر امیدواروں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ مسکرا کر خاموش رہیں، لیکن اس بار خواتین نے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
موجودہ مس یونیورس وِکٹوریا تھیلوگ نے بعد میں کہا:
“ہم صرف سجاوٹی چہرے نہیں ہیں۔ ہم باوقار، باشعور اور مضبوط خواتین ہیں، اور ہمیں احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔”
آگے کیا ہوگا؟
مس یونیورس 2025 کا فائنل 21 نومبر کو بینکاک میں منعقد ہونا ہے، مگر اب مقابلے کا ماحول یکسر بدل چکا ہے۔
یہ شو، جو عموماً خوبصورتی اور چمک دمک کے لیے جانا جاتا ہے، اب خواتین کے احترام، مساوات اور خود مختاری کے موضوعات کے گرد گھوم رہا ہے۔
کیا تنظیم اس تنازع کے بعد اپنا اعتماد واپس حاصل کر پائے گی؟
یہ تو وقت بتائے گا، مگر ایک بات طے ہے —
اس بار امیدواروں نے صرف تقریب نہیں چھوڑی، بلکہ خواتین کے وقار پر ہونے والی بحث کو نئی زندگی دے دی ہے۔
