اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کو آئین کی روح اور وفاق کی وحدت کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے یہ ترمیم بغیر مشاورت اور شفافیت کے پیش کی۔ "نہ ہم سے رابطہ کیا گیا، نہ ہی 27ویں ترمیم کا مسودہ ہمیں دکھایا گیا،” انہوں نے کہا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرے گی۔ "کچھ لوگوں کو غیر معمولی اختیارات دینا وفاق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،” انہوں نے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 56 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں اور وہ ججز کہاں گئے جو ان کیسز کو نمٹانے کے ذمہ دار تھے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی "عوام کے حقوق اور آئین کی بالادستی کے لیے جیل میں بیٹھے ہیں۔”
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر کم کرنا کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔ "27ویں آئینی ترمیم قوم کو مزید تقسیم کرے گی،” انہوں نے کہا، اور حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرے، نہ کہ ترمیمات کے ذریعے تنازعات پیدا کرے۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وضاحت کی کہ یہ ترمیم اسکولوں یا کالجز کے کنٹرول سے متعلق نہیں بلکہ نصاب کی بہتری سے متعلق ہے۔ "ہم نصاب میں اصلاحات کی بات کر رہے ہیں، اداروں کے کنٹرول کی نہیں،” انہوں نے کہا۔
ڈاکٹر طارق کا کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم وقت کی ضرورت ہے، جبکہ آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ بھی بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کرے اور ترمیم کو متنازع بنانے سے گریز کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال تشویشناک ہے، اور افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت ترک کریں۔
