میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ نیویارک کے نئے میئر کے طور پر زوہران ممدانی کے انتخاب کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا نے "خودمختاری” کھو دی ہے۔ 34 سالہ ممدانی امریکی تاریخ میں نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر بن گئے ہیں۔
میامی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ نیویارک جلد "کمیونسٹ شہر” بن سکتا ہے، اور اعلان کیا، "ہم اس کا خیال رکھیں گے”، مگر انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ ان کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میامی اُن لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنے گا جو نیویارک میں کمیونزم سے بھاگنا چاہتے ہیں۔”
ٹرمپ نے کہا، "امریکی عوام کے سامنے انتخاب واضح ہے کمیونزم اور کامن سینس (عام فہم) کے درمیان، ایک معاشی ڈراؤنے خواب اور ایک معاشی معجزے کے درمیان۔
البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیویارک کامیاب ہو اور ممکن ہے کہ وہ ممدانی کی "تھوڑی مدد” بھی کریں۔
یہ بیان ٹرمپ کی اپنی جیت کی پہلی سالگرہ پر سامنے آیا، جب انہوں نے کملا ہیرس کو شکست دی تھی۔ انہوں نے کہا، ہم نے اپنی معیشت کو بچایا، اپنی آزادی واپس حاصل کی، اور ایک سال پہلے اسی دن اپنی قوم کو محفوظ بنایا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ممدانی کو واشنگٹن کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنے کا مشورہ دیا، اور خبردار کیا کہ اگر وہ تعاون نہیں کریں گے تو "انہیں بہت کچھ کھونا پڑے گا۔
ممدانی کی جیت کے باوجود، انہیں کاروباری طبقے، قدامت پسند میڈیا اور خود ٹرمپ کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر ان کی پالیسیوں اور مسلم شناخت کے باعث۔
جیت کے بعد اپنی تقریر میں ممدانی نے براہِ راست ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"ڈونلڈ ٹرمپ، چونکہ مجھے معلوم ہے آپ دیکھ رہے ہیں، تو میرے پاس آپ کے لیے صرف چار الفاظ ہیں: آواز اونچی کر دیں!”
انہوں نے مزید کہا، "اگر کوئی قوم کو یہ دکھا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کو کیسے شکست دی جاتی ہے، تو وہ یہی شہر ہے جس نے اسے جنم دیا۔”
ڈیموکریٹس نے ورجینیا، نیو جرسی اور کیلیفورنیا میں بھی کامیابیاں حاصل کیں، جو اگلے سال ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل سیاسی رجحان میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں حکومتی شٹ ڈاؤن اور اپنے نام کے بیلٹ پر نہ ہونے سے جوڑ دیا۔
واشنگٹن اور نیویارک کی نئی قیادت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باوجود، ممدانی کی جیت امریکی سیاست اور ثقافت میں ایک تاریخی لمحہ بن گئی ہے جو آنے والے برسوں میں شہری سیاست کی سمت تبدیل کر سکتی ہے۔
