پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے اداکارہ صبا قمر کے ڈرامے پامال کو “خواتین کی ان کہی اذیتوں کی جرات مندانہ عکاسی” قرار دیتے ہوئے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر دیے گئے ایک بیان میں شرمیلا فاروقی نے لکھا کہ یہ ڈرامہ اُس تشدد کو سامنے لا رہا ہے جو اکثر آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے — جذباتی دباؤ، نفسیاتی کنٹرول، اور عورت کی شخصیت کو آہستہ آہستہ مٹانے کا عمل۔
“شادی ایک شراکت ہونی چاہیے، قید نہیں۔ پامال نے وہ دکھا دیا ہے جو کئی عورتیں محسوس کرتی ہیں مگر کہہ نہیں پاتیں — اور یہ قابلِ تحسین ہے۔”
ایک کہانی جو دل کو چھو جاتی ہے
صبا قمر کے مرکزی کردار پر مبنی پامال حالیہ دنوں میں پاکستان کا سب سے زیادہ زیرِ بحث ڈرامہ بن چکا ہے۔
اس کی کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے جو بظاہر خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے تعلق کی تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں — خاموش تشدد، جذباتی استحصال اور مسلسل سمجھوتے۔
اس ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ زور و شور یا جسمانی تشدد کے مناظر پر نہیں بلکہ اُن باریک جذباتی زخموں پر توجہ دیتا ہے جو معاشرہ عام طور پر نظرانداز کر دیتا ہے۔
شرمیلا فاروقی کا پیغام
شرمیلا فاروقی کے بیان نے ڈرامے کے اثر کو مزید بڑھا دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پامال نے ایک ایسے موضوع پر روشنی ڈالی ہے جسے ہمارے معاشرے میں اکثر "خاندانی معاملہ” کہہ کر دبا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہماری عورتوں کو برداشت کی تربیت دی جاتی ہے، مگر خاموشی ہمیشہ صبر نہیں ہوتی۔ پامال جیسے ڈرامے یہ احساس دلاتے ہیں کہ جذباتی تشدد بھی حقیقی اور خطرناک ہے۔”
سوشل میڈیا پر ناظرین نے بھی شرمیلا کے بیان کی تائید کی۔ بہت سے صارفین نے اپنی ذاتی کہانیاں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پامال نے اُن احساسات کو آواز دی ہے جو برسوں سے دلوں میں دبے تھے۔
صبا قمر کی جرات مندانہ اداکاری
صبا قمر ایک بار پھر اپنے مضبوط کردار سے سب کو متاثر کر رہی ہیں۔
پامال میں اُنہوں نے ایک ایسی عورت کا کردار نبھایا ہے جو بظاہر خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی کے پیچھے درد اور مزاحمت کی پوری دنیا چھپی ہے۔
صبا قمر نے ایک انٹرویو میں کہا:
“لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر جسم پر نشان نہیں تو تشدد نہیں ہوا — لیکن سچ یہ ہے کہ جذباتی تشدد انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔”
سماجی آگہی کی طرف ایک قدم
پاکستانی ڈراموں میں جب ایسے حساس موضوعات سامنے آتے ہیں تو وہ صرف تفریح نہیں بلکہ سماجی مکالمہ بن جاتے ہیں۔
شرمیلا فاروقی کی جانب سے پامال کی تعریف نے یہ پیغام دیا کہ فن اور سماج ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ان کے الفاظ میں:
“جب عورتوں کے درد کو سنا اور سمجھا جانے لگے، تبھی اصل تبدیلی شروع ہوتی ہے۔”
اختتام
پامال صرف ایک ڈرامہ نہیں — یہ اُن عورتوں کی کہانی ہے جو مسکراہٹوں کے پیچھے اپنی تکلیف چھپاتی ہیں۔
اور جب سیاست، میڈیا، اور فن ایک ساتھ کسی سچائی کو اجاگر کریں، تو وہ صرف اسکرین پر نہیں بلکہ سماج کے شعور میں تبدیلی لے آتی ہے۔
