نومبر 7، 2025
ویب ڈیسک
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے دنیا بھر میں جنگلاتی آگوں کی شدت اور پھیلاؤ کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ طویل گرمی کی لہر زمین اور پودوں سے نمی جذب کر لیتی ہے، جس سے آگ لگنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
سنہ 2024 میں ایمیزون کے جنگلات میں گزشتہ دو دہائیوں کی بدترین آگ لگی۔ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں نے ایسے حالات پیدا ہونے کے امکانات 70 گنا تک بڑھا دیے، جس کے باعث جلی ہوئی زمین کا رقبہ عام حالات کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھا۔
اسی طرح جنوری 2025 میں جنوبی کیلیفورنیا کی آگ سے متاثرہ علاقہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 25 گنا زیادہ تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق زمین کے استعمال میں تبدیلی اور بڑھتی گرمی نے جنگلاتی آگوں کے خطرات میں زبردست اضافہ کر دیا ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو سن 2100 تک انتہائی تباہ کن آگوں کی تعداد میں 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
