شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا اور جنوبی کوریا کے تازہ سیکیورٹی مذاکرات اور امریکی طیارہ بردار جہاز کی جنوبی کوریا آمد کے جواب میں “مزید جارحانہ کارروائی” کرے گا۔ یہ دھمکی ایک روز بعد سامنے آئی جب پیونگ یانگ نے اپنی مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا۔
شمالی کوریا کے وزیرِ دفاع نو کوانگ چول نے امریکی اور جنوبی کوریائی رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ سیول میں ہونے والے دفاعی مذاکرات اور سرحدی دورے کے ذریعے شمالی کوریا کے خلاف دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے بقول دونوں اتحادی اپنی ایٹمی اور روایتی افواج کو یکجا کر کے شمالی کوریا کے خلاف دفاعی نظام مضبوط کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
نو نے سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے (KCNA) کے ذریعے کہا:
“یہ ان کے دشمنانہ عزائم کا واضح اظہار ہے کہ وہ ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے خلاف آخر تک کھڑے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
ادھر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ واشنگٹن سیول کے ساتھ اپنے اتحاد کو شمالی کوریا کے خلاف دفاعی توجہ میں برقرار رکھے گا، تاہم امریکی افواج کو خطے کے دیگر خطرات کے لیے بھی متحرک رکھا جائے گا۔
کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی ایٹمی طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن (USS George Washington) جنوبی کوریا کی بندرگاہ بوسان پہنچا۔ شمالی کوریا نے اسے ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا، خاص طور پر اس کے بعد جب دونوں اتحادیوں نے مشترکہ فضائی مشقیں کیں۔
نو نے کہا، “ہم دشمنوں کے خطرات کے خلاف امن و سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی طاقت کے بل پر زیادہ جارحانہ اقدامات کریں گے۔”
جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “انتہائی افسوسناک” قرار دیا اور کہا کہ امریکی اتحاد پر تنقید بلاجواز ہے۔ جنوبی کوریا کی بحریہ نے وضاحت کی کہ طیارہ بردار جہاز کا دورہ صرف رسد بھرنے اور عملے کو آرام دینے کے لیے تھا۔
امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کے مطابق، شمالی کوریا کا میزائل تجربہ امریکی افواج، اتحادیوں یا علاقے کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا، تاہم اس نے کہا کہ یہ اقدامات “علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے” ہیں۔
گزشتہ ہفتے، شمالی کوریا نے مغربی ساحل پر کروز میزائل بھی داغے تھے، اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کا دورہ کیا اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تاہم کوئی ملاقات نہیں ہو سکی۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ کورین جزیرہ نما میں سفارتکاری اور عسکری طاقت کے درمیان تنازعہ خطرناک حد تک نازک توازن پر قائم ہے۔
