لوک ورثہ کے دروازے پر پہنچتے ہی ڈھول کی تھاپ دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ جیسے میلہ خود پکار رہا ہو کہ اندر آؤ، یہاں زندگی چل رہی ہے۔ دوپہر تک راستے بھر رش تھا، اور اس سال بھیڑ کا اصل سبب ایک ہی چیز دکھائی دی: موسیقی۔ وہی قدیم، دیسی، مٹی میں بسی ہوئی موسیقی۔
ہفتے کے آغاز میں سندھ کی ثقافتی موسیقی کی رات نے میلے کا رنگ بدل دیا۔ سانم ماروی نے جب پہلی نظم چھیڑی تو پورا میدان جیسے ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔ ان کی آواز ہوا میں پھیلی، پھر آہستہ آہستہ لوگ بھی ساتھ گنگنانے لگے۔ کچھ دیر بعد سیف سمیجو آئے تو فضا اور گہری ہو گئی۔ لوک موسیقی کا یہی کمال ہے، نہ زبان کی رکاوٹ، نہ سمجھ کی ضرورت۔ دل تک سیدھا اتر جاتی ہے۔
ایک منتظم نے بتایا کہ اس بار ’’ردِعمل پچھلے کئی برسوں سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہا ہے‘‘۔ بات درست تھی۔ جس وقت طفیل خان سنجرانی اور اصغر کھوسو اسٹیج پر آئے، تب تک ہجوم پہلے سے دگنا ہو چکا تھا۔
لیکن لوک میلہ صرف موسیقی پر نہیں چلتا۔
اسٹیج سے چند قدم پیچھے، چھوٹی لکڑی کی دکانوں میں ملک بھر کے کاریگر بیٹھے ہیں۔ کوئی خاموشی سے کام کرتا ہے، کوئی زائرین سے باتیں کرتے ہوئے۔ سندھی اجرک بنانے والی ایک خاتون تازہ نیلے رنگ کے ٹکڑے پر مہر لگا رہی تھی۔ بچے جھک کر اس کے ہاتھوں کی حرکت دیکھتے رہے۔ سامنے ایک چترالی کاریگر اخروٹ کی لکڑی پر نقش بنا رہا تھا اور وقفے وقفے سے لوگوں کو ڈیزائن کی کہانی سمجھا رہا تھا۔
کچھ چیزیں فوراً بک جاتی ہیں، کچھ صرف دیکھی جاتی ہیں۔ مگر ہر اسٹال یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ کام محض ہنر نہیں، روزگار بھی ہے۔ نسلوں سے منتقل ہوتا ہوا ہنر، جو جدید دور کی بھیڑ میں اگر کہیں محفوظ ہے تو ایسے میلوں میں۔
اس بار بھی سندھ پویلین سب سے زیادہ چہل پہل والا مقام رہا۔ رنگ، رقص، مقامی ساز، ہاتھ کی کڑھائی — سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جس سے گزر جانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک نوجوان نے ہنستے ہوئے کہا، ’’یہ تو میلے کے اندر ایک اور میلہ لگ رہا ہے‘‘، اور واقعی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔
بلوچستان کا حصہ نسبتاً پرسکون ہے مگر اتنا ہی دلکش — گہرے رنگ کے قالین، ہاتھ سے بنے زیورات، اور وہ خاموشی جو صرف پہاڑی علاقوں کی کہانی سناتی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے کھانوں اور براہِ راست دستکاری پر زور دیا ہوا ہے، اس لیے لمبی قطاریں اور مطمئن چہروں والے زائرین ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔
ایک اور بات اس بار نمایاں ہے: آنے والوں کا تنوع۔ خاندان، طلبہ، سیاح، فنکار، پہلی بار آنے والے — سبھی ایک ہی جگہ گھل مل رہے ہیں۔ بہت سے لوگ صرف اس لیے پہنچے کہ موسیقی کی راتوں کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ آن لائن شور نے دروازہ دکھا دیا، مگر اندر کی رونق نے سب کو روک لیا۔
لوک میلہ ہمیشہ ’’تنوع میں وحدت‘‘ کی بات کرتا ہے، مگر اس مرتبہ وہ بات سچ بنتی نظر آئی۔ شاید وجہ یہ ہے کہ کاریگر اس بار صرف چیزیں بیچ نہیں رہے، کام کر کے دکھا رہے ہیں۔ شاید فنکار اپنے خطوں کی اصل موسیقی میں زیادہ ڈوب کر گاتے ہیں۔ یا شاید لوگ ان دنوں کچھ ایسی چیز ڈھونڈ رہے ہیں جو اصل ہو، اپنی ہو، گھر جیسی ہو۔
جو بھی ہو، نتیجہ سامنے ہے۔ دھنیں، رنگ، کاریگری، بھیڑ — سب کچھ زندگی سے بھرپور ہے۔
اور میلہ ابھی چل رہا ہے۔
