کراچی پولیس نے جمعے کے روز 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والا تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کا احتجاج روک دیا اور سیکشن 144 کے نفاذ کے تحت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پریس کلب جانے والے تمام راستے سیل کر دیے، جس کے باعث شہر کے مصروف تجارتی مراکز میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوا۔
پولیس کی جانب سے زینب مارکیٹ، ایمپریس مارکیٹ، آئی آئی چندریگر روڈ، سیدھی اور ملحقہ سڑکوں پر کنٹینرز، خار دار تار اور رکاوٹیں لگانے سے دکاندار، خریدار اور دفاتر جانے والے شہری کئی گھنٹے تک پھنسے رہے۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں اور دوڑیں لگتی رہیں، جبکہ مختلف مقامات سے کارکنوں کو گرفتار کر کے قریبی تھانوں منتقل کردیا گیا۔
حکام کے مطابق شہر بھر میں سیکشن 144 نافذ ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس یا عوامی اجتماع پر پابندی عائد ہے۔ پولیس نے حالات کشیدہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر دوپہر سے قبل ہی پریس کلب کے گرد سخت سیکیورٹی تعینات کر دی تھی، جبکہ فوارہ چوک، عبداللہ ہارون روڈ اور ملحقہ مقامات پر بھاری نفری سمیت خواتین اہلکار بھی موجود رہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ٹی ٹی اے پی کے کارکن ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک اور ریکس سینٹر سمیت کئی مقامات پر دوبارہ اکٹھا ہونے کی کوشش کرتے رہے، لیکن موبائل پولیس یونٹس نے انہیں بار بار منتشر کر دیا۔ ٹریفک کئی گھنٹے معطل رہی اور معمول کی روانی شام کے وقت بحال ہوسکی۔
ایس ایس پی ساؤتھ منظور علی کے مطابق ابتدائی طور پر نو افراد کو سیکشن 144 کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’صورتحال پورے دن کنٹرول میں رہی اور ہماری اولین ترجیح عوامی تحفظ یقینی بنانا تھی۔‘‘
—
سندھ بھر میں ٹی ٹی اے پی کا ’یومِ سیاہ‘
دوسری جانب ٹی ٹی اے پی نے جمعہ کو 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سندھ بھر میں ’یومِ سیاہ‘ قرار دیا اور مختلف شہروں میں پریس کلبز اور مرکزی چوراہوں پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حیدرآباد، میرپورخاص، سانگھڑ، سکھر، لاڑکانہ، عمرکوٹ، گھوٹکی اور دیگر اضلاع میں کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر ریلیاں نکالیں اور ترمیم کو ’’زبردستی مسلط شدہ اور غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔
کراچی میں پی ٹی آئی، جو ٹی ٹی اے پی کی اہم اتحادی جماعت ہے، نے بھی پریس کلب کے باہر احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم پولیس کی بھاری نفری کے باعث مظاہرہ نہ ہوسکا اور کئی کارکنوں کو پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، کراچی کے صدر راجہ آزاد، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد اور پارٹی کی خواتین، یوتھ، وکلاء، لیبر اور دیگر ونگز کے نمائندے ریگل چوک پر جمع ہوئے اور مختصر احتجاج کیا، جہاں پولیس نے ایک بار پھر شرکا کو منتشر کر دیا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق دو درجن سے زائد کارکن گرفتار ہوئے۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 27ویں ترمیم ’’آئین پاکستان مسخ‘‘ کر دیتی ہے اور عوامی رائے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام نے ملک کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق ’’چوری شدہ مینڈیٹ والی حکومت اصلاحات نہیں کرسکتی، بلکہ اپنے تحفظ کیلئے ترمیمات لاتی پھر رہی ہے۔‘‘
انہوں نے پولیس کی ’’بے جا طاقت‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور اسے دبانے کی ہر کوشش قابل مذمت ہے
