کراچی — شہر کا قدیم اور خوبصورت خالق دینا ہال ایک بار پھر گہما گہمی سے بھرنے والا ہے، کیونکہ اسی اتوار یہاں ریڈنگ روم فیسٹیول منعقد ہورہا ہے۔ دوپہر 12 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہنے والا یہ ثقافتی میلہ سب کے لیے مفت ہے، اور اگر سچ کہیں تو کراچی جیسے مصروف شہر میں ایسی کھلی، عوامی سرگرمیاں اب بھی کچھ کم ہی نظر آتی ہیں۔
رنگوں، باتوں اور تخلیق سے بھرپور دن
ہال کے بیرونی باغیچے میں مختلف ہنر اور دستکاری کے اسٹالز سجائے جائیں گے جہاں لوگ ٹرک آرٹ، چمک پٹی، زین میکنگ، بلاک پرنٹنگ، کراس اسٹچ، ٹوکری بُنائی اور کئی چھوٹی مگر دل چسپ سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔ منتظمین کے مطابق مقصد یہی ہے کہ لوگ “اپنے ہاتھوں سے کچھ بنائیں… چاہے وہ تھوڑا ٹیڑھا میڑھا ہی کیوں نہ ہو، بس اپنا ہو۔”
ہال کے اندر دن بھر مختلف پروگرام چلتے رہیں گے۔ سب سے پہلے دوپہر 2 بجے ڈرامہ "اَن فٹ بال ہے دنیا میرے آگے” پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد مکالموں اور گفتگوؤں کا سلسلہ شروع ہوگا جن میں شہر، ساحلی زندگی، کہانیاں اور شناخت جیسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔
پینل "فِشنگ دی نیریٹو” میں شیف اسد مونگا، عاکف راج اور فاطمہ بی بی شرکت کریں گے، جبکہ "ریڈنگ دی سٹی” کے عنوان سے ہونے والی گفتگو میں افضل زیدی، مہر جعفری، نصرت خواجہ اور سائمہ زیدی کراچی کو ایک “پڑھنے” کے تجربے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کریں گے۔
شام ڈھلے فضا بدل جائے گی۔ پہلے داستان گوئی ہوگی — وہی روایتی انداز کی کہانی سنانے کی محفل — اور پھر غیور معیز قوال اور ان کا گروپ محفل کو قوالی سے رنگین کر دیں گے۔ توقع یہی ہے کہ یہ حصہ سب سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گا۔
کھانا تو ہے ہی کراچی کی پہچان
باہر فوڈ کارنر میں وہی چیزیں ملیں گی جن کے بغیر یہاں کا کوئی میلہ مکمل نہیں ہوتا: بن کباب، چاٹ، کچوریاں، پکوڑے، چائے اور بہت کچھ۔ مقصد بس اتنا کہ لوگ گھومتے پھرتے، سنتے دیکھتے — کچھ چکھ بھی لیں۔
خالق دینا ہال: ایک عمارت، بے شمار کہانیاں
1906 میں تعمیر ہونے والا یہ ہال کراچی کے قدیم ترین علمی و سماجی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہی جگہ 1921 کی خلافت تحریک کی معروف عدالتی کاروائی کی میزبانی بھی کر چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں نُمائش کراچی اور برٹش کونسل کے کلچرل پروٹیکشن فنڈ نے اس عمارت کی مرمت اور بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اب یہ جگہ دوبارہ شہر کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس اتوار کا فیسٹیول صرف فن، موسیقی یا ورکشاپس تک محدود نہیں۔ یہ ایک طرح سے شہریوں کو ان کی اپنی تاریخ، اپنی عمارتوں اور اپنے اجتماعی ورثے سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش ہے۔
شہر کے لیے اس کی اہمیت
کراچی جیسے بڑے شہر میں کھلے، خاندان دوست اور مفت ثقافتی ایونٹس کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ریڈنگ روم فیسٹیول اس کمی کو تھوڑا سا پورا کرتا ہے — کم از کم ایک دن کے لیے۔ چاہے کوئی کچھ سیکھنے آئے، کچھ بنانے، یا بس گھومنے پھرنے — ہر شخص یہاں سے کچھ نہ کچھ لے کر جائے گا۔
اور شاید یہی اس فیسٹیول کی اصل کامیابی ہے۔
