لاہور — جمعرات کی شام لاہور کے الحمرا میں کچھ ایسا منظر تھا جیسے شہر کی رفتار اچانک دھیمی پڑ گئی ہو۔ گیٹ کھلتے ہی اندر ایک ایسی فضا محسوس ہو رہی تھی جو رنگوں، خاموشی اور روحانیت کو اکٹھے بُنتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ سالانہ صوفی فیسٹول کا آغاز ایک ایسے انداز میں ہوا جس نے دیکھنے والوں کو پہلے ہی لمحے میں تھام لیا۔
فیسٹول کا پہلا دن ایک بڑے آرٹ شو کے نام رہا، جہاں 65 آرٹسٹس کے 100 سے زائد فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے۔ ہر پینٹنگ میں صوفیانہ فکر کا کوئی نہ کوئی رخ جھلکتا تھا — کبھی خاموشی، کبھی تلاش، کبھی محبت، کبھی فنا اور کبھی ایک ایسی روشنی جو براہِ راست دل پر اترتی ہے۔
نمائش… جیسے مراقبہ کا ایک لمحہ
اللہ بخش آرٹ گیلری کے اندر ہلکے رنگ، سادہ لکیریں، صوفیانہ علامات اور کیلیگرافی ایک ایسی جمالیاتی زبان بول رہے تھے جو نظر سے زیادہ دل کو چھوتی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ چلتے تھے — جیسے فن پاروں کو وقت دینا بھی عبادت کا حصہ ہو۔
تقریب کا افتتاح پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا محبوب عالم نے کیا۔ محبوب عالم نے اس فیسٹول کو “ہماری صوفی وراثت کا احترام” قرار دیا — اور یہ بات نمائش دیکھ کر واقعی دل سے سچی محسوس ہوتی ہے۔
گفتگو، تھیٹر، رقص اور سرور… صرف تصویریں نہیں
فیسٹول اگلے دو دنوں میں صرف آرٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ الحمرا کی فضا میں صوفی موسیقی، فکری نشستیں، تھیٹر، رقص اور شاعری سب اکٹھے سانس لیں گے۔
“نوجوان، فکری چیلنجز اور واصف علی واصف کی تعلیمات” کے عنوان سے ایک اہم مکالمہ رکھا گیا ہے، جس میں اس بات پر بات ہوگی کہ آج کے نوجوان صوفی حکمت سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ تھیٹر پلے “مقصودِ کل میں ہوں!” اسٹیج کیا جائے گا، جو باطنی سوالات اور روحانی تلاش کو ڈرامائی اظہار میں ڈھالے گا۔
اور پھر وہ لمحے جن کا سب کو انتظار ہوتا ہے —
صوفی موسیقی، دھمال، رقصِ درویش، اور وجد میں ڈوبی ہوئی شاعری۔
یہ وہ حصے ہیں جو الفاظ سے زیادہ جذبے کی زبان میں بولتے ہیں۔
اس سال یہ فیسٹول کیوں زیادہ معنی رکھتا ہے؟
شاید دنیا کی موجودہ بے چینی کی وجہ سے… یا شاید اس لیے کہ لوگ ایک بار پھر سکون، روحانیت اور کسی گہری وابستگی کی تلاش میں ہیں۔ یہ فیسٹول ٹھیک اسی وقت آیا ہے جب دلوں کو کچھ نرم ہونے کی ضرورت ہے۔
صوفی ازم ہمیشہ انسان کو اس کے اندر کے سکوت سے جوڑتا ہے — اور الحمرا کا یہ جشن یہی کام کر رہا ہے:
لوگوں کو ایک لمحے کے لیے دنیا کے شور سے باہر نکال کر اپنے اندر کی دنیا میں لے جانا۔
آنے والوں کے لیے کیا موجود ہے؟
اگر آپ 28 سے 30 نومبر کے درمیان الحمرا کا رخ کرنے والے ہیں، تو آپ پائیں گے:
-
آرٹ جو صرف خوبصورتی نہیں بلکہ غور و فکر بھی مانگتا ہے
-
صدیوں پرانی روایات پر مبنی پرفارمنسز جو آج کے دور کے اظہار کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں
-
مکالمے جو روحانیت کو موجودہ چیلنجز سے جوڑتے ہیں
-
ایک ایسا ماحول جہاں سکون، عقیدت اور تخلیقی اظہار ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اور سچ کہیں تو — آج کے دور میں ایسا مقام مل جائے تو اسے دیکھے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔
