روس کے معروف فٹنس انفلوئنسر دیمتری نوئیانزن، جن کی عمر صرف 30 سال تھی، ایک انتہائی خطرناک وزن بڑھانے کے تجربے کے دوران انتقال کر گئے۔ وہ چند ہفتوں سے روزانہ 10 ہزار سے زائد کیلوریز پر مشتمل جنک فوڈ کھا رہے تھے تاکہ تیزی سے وزن بڑھا کر سوشل میڈیا کے لیے ایک “ڈرامائی ٹرانسفارمیشن” ویڈیو بنا سکیں۔
نوئیانزن نے اعلان کیا تھا کہ وہ تقریباً 25 کلو وزن بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی خوراک میں کیک، پیسٹری، مایونیز میں بھیگے موموز، برگر، پیزا اور چیپس جیسے ہائی کیلوری کھانے شامل کر لیے۔ رپورٹس کے مطابق صرف ایک ماہ میں ان کا وزن بڑھ کر 105 کلوگرام تک پہنچ گیا۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ وزن میں تیزی سے اضافے کے بعد وہ مسلسل تھکن اور نقاہت محسوس کر رہے تھے۔ موت سے ایک دن قبل انہوں نے اپنے تمام ٹریننگ سیشنز منسوخ کر دیے اور بتایا کہ وہ طبیعت کی خرابی کے باعث آرام کر رہے ہیں۔
دیمتری نیند میں ہی چل بسے، جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق انتہائی غیر متوازن اور بھاری خوراک نے ان کے دل پر شدید دباؤ ڈالا جس سے جان لیوا مسئلہ پیدا ہوا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اچانک اور انتہائی کیلوری والی ڈائٹ دل، بلڈ پریشر اور میٹابولزم کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے، اور ماہرین نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ خطرناک ڈائیٹ چیلنجز، چاہے انفلوئنسرز ہی کیوں نہ کریں، صحت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ فالوورز نے دیمتری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت ٹرینر تھے جنہوں نے ایک خطرناک تجربے میں اپنی جان گنوا دی.
