آسٹریا کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اسٹیفانی پیپر کی لاش سلووینیا کے جنگل میں ایک سوٹ کیس سے برآمد ہوئی، چند روز قبل لاپتہ ہونے کے بعد ان کے سابق بوائے فرینڈ نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔
پیپر 23 نومبر کی رات ایک تقریب سے واپس آنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھیں۔ آخری پیغام میں انہوں نے دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ گھر پہنچ گئی ہیں، لیکن انہیں سیڑھیوں کے قریب کسی کے موجود ہونے کا شبہ ہو رہا ہے۔ جب وہ طے شدہ فوٹو شوٹ میں نہ پہنچیں اور مسلسل رابطے میں نہ آئیں تو اہلِ خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔
تحقیقات میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب بارڈر کے قریب جنگل میں ان کے سابق بوائے فرینڈ کی جلی ہوئی گاڑی ملی۔ گرفتار ہونے کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ اس نے اسٹیفانی کو گلا دبا کر قتل کیا، لاش کو سوٹ کیس میں رکھا اور سرحد پار جنگل میں دفن کر دیا۔ بعد میں اس نے پولیس کو مقام کی نشاندہی بھی کی۔
ملزم کے دو رشتہ داروں کو بھی جرم چھپانے کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ قتل کی اصل وجہ اب بھی سامنے نہیں آ سکی۔
فیشن اور لائف اسٹائل مواد کے باعث سوشل میڈیا پر مقبول اسٹیفانی پیپر کی افسوسناک موت نے آن لائن کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور خواتین کی حفاظت اور تشدد کے بڑھتے خدشات پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
