پنجاب کی بارہ کروڑ آبادی کے لیے اسپتالوں میں صرف 411 وینٹی لیٹرزموجود ہیں۔
ڈی جی ہیلتھ کیئر سروسز نے پنجاب کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے جس کے مطابق پنجاب کے 36 اضلاع کے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے 411 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ضلع میانوالی میں سب سے زیادہ 30 وینٹی لیٹرزموجود ہیں، سیالکوٹ میں سب سے کم صرف چار وینٹی لیٹرزموجود ہیں، لاہور میں 9، راولپنڈی میں 18، حافظ آباد میں 23 اور وہاڑی میں 10 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وینٹی لیٹرز ایک اہم طبی آلہ ہے جو اعلیٰ درجے کی صحت کی سہولیات کے لیے اسپتالوں میں نصب کیا جاتا ہے، وینٹی لیٹرز کا مقصد تشویشناک مریضوں کو مصنوعی سانس فراہم کرنا ہوتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹوازم کی درخواست پر وینٹی لیٹرز کی تفصیلات طلب کی تھیں، بتایا گیا ہے کہ وینٹی لیٹرز کے آپریشن کے لیے تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے، وینٹی لیٹرز کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی میکنزم قائم کی گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانس کے شدید مسائل والے مریضوں کے علاج کے لیے ہنگامی انتظامات کر دیے گئے ہیں۔
