شہر کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آؤٹ فال ڈسپوزل اسٹیشن سے لیے گئے سیوریج نمونے میں پولیو وائرس پایا گیا۔
سیوریج کے نمونے تجزیے کے لیے قومی ادارہ صحت کو بھجوائے گئے تھے جہاں سے وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق بار بار انسدادِ پولیو مہم چلانے کے باوجود گزشتہ دو سال سے پولیو وائرس ماحول میں موجود ہے، جو بچوں کی صحت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مزید سرویلنس اور ویکسینیشن مہم تیز کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پولیو ایک جان لیوا مرض ہے جو انسانیت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بیماری انتہائی متعدی ہے. اس بیماری میں مبتلا ہونے کا سب سے زیادہ امکان 5 سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔
پولیو وائرس ایک فرد سے دوسرے میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یہ بیماری متعدی بن جاتی ہے۔ پولیو اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
پولیو وائرس متاثرہ فرد کی ریڑھ کی ہڈی اور دماغ پر حملہ کرتا ہے۔ نتیجتاً، اس کے نتیجے میں فالج ہو سکتا ہے کیونکہ فرد جسم کے بعض حصوں کو حرکت دینے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
