سندھ حکومت نے کراچی کے لیے انتہائی اہم اور زیر التواء ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کا تعمیراتی ٹھیکہ منسوخ کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے منگل کے روز اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار کی جانب سے کام میں مسلسل سستی اور مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اب یہ منصوبہ "ہنگامی بنیادوں پر” دوبارہ ٹینڈر کیا جائے گا۔
مالیر ہالٹ سے نمائش تک پھیلا یہ منصوبہ کئی ماہ سے سست روی کا شکار تھا۔ تعمیراتی کام میں تاخیر اور یوٹیلٹی لائنوں کی منتقلی کے تنازعات نے کراچی کے شہریوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ شاہراہِ فیصل اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کا جام رہنا اور تعمیراتی ملبے سے اڑتی دھول روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ پرانے ٹھیکیدار کو ہٹانے سے کام کی رفتار کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔
شرجیل میمن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم اس منصوبے کو مزید تعطل کا شکار نہیں ہونے دے سکتے۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ایک تفصیلی کارکردگی آڈٹ کے بعد کیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ کمپنی وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی ہے۔ ٹرانس کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر نئے ٹینڈر کے دستاویزات مکمل کرے۔
اس فیصلے کے مالی اثرات اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ کسی بھی بڑے منصوبے کو عین تعمیراتی مرحلے پر منسوخ کرنا قانونی پیچیدگیوں اور لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نئے ٹینڈر کا عمل انتظامی تاخیر کا سبب بن سکتا ہے، جس سے منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 2026 تک جا سکتی ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کو کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا تھا، جس میں بائیو گیس سے چلنے والی بسیں اور مخصوص ٹریک شامل ہیں۔ فی الحال، منصوبے کے بیشتر مقامات پر کام بند ہے اور ادھورے تعمیر شدہ اسٹیشن شہر کی بدحالی کی داستان سنا رہے ہیں۔
کراچی کے لاکھوں مسافروں کے لیے، جو روزانہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں، "ہنگامی” اصلاحات کا اعلان فی الحال محض ایک رسمی بیان معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کے پاس اب بہت کم وقت ہے کہ وہ کسی ایسی کمپنی کا انتخاب کرے جو انتہائی قلیل مدت میں اس منصوبے کو مکمل کر سکے، بصورت دیگر شہر کا ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر مزید تباہی کی جانب گامزن رہے گا۔
