اسلام آباد — وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور 2026 میں صرف ایک کیس رپورٹ ہونے کے ساتھ نمایاں پیش رفت پر زور دیا۔
وزیر اعظم ہاؤس میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے ملک بھر میں فرنٹ لائن صحت کارکنان اور پولیو ٹیموں کی محنت کو سراہا اور کہا کہ بیماری کا خاتمہ قومی ترجیح میں شامل ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال کا واحد کیس سجوال ضلع، سندھ سے رپورٹ ہوا، جبکہ 2024 میں 74 کیسز اور 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس سے وائرس کی منتقلی میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ (پولیو متاثرہ اضلاع کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے—2025 کی پہلی سہ ماہی میں 67 اضلاع سے گھٹ کر 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 23 اضلاع تک پہنچ گئی ہے۔ملکی سطح پر پولیو مہمات کے دوران گھریلو رسائی تقریباً 98 فیصد رہی، اور خاص طور پر جنوبی خیبر پختونخواہ میں بچوں تک ویکسین کی پہنچ بڑھانے سے کمی دیکھی گئی۔
کراچی میں ماحولیات کی نگرانی کے نتائج بھی حوصلہ افزا رہے، جہاں مارچ میں 12 میں سے 10 مقامات پر پولیو وائرس منفی پایا گیا، جبکہ پنجاب، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں نئے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔ شہباز شریف نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، شراکت دار تنظیموں اور صحت کارکنان کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے تاکہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔ اجلاس میں ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (EPI) اور پولیو خاتمے کی مہم کو ضم کرنے کی حکمت عملی بھی زیر غور آئی۔
اس کے علاوہ، ملک گیر دوسری پولیو مہم کے دوران لاکھوں بچوں کو قطرے پلائے گئے اور کمیونٹیز کی بھرپور شرکت اور بہتر کوریج دیکھی گئی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر بچے چھوٹ جائیں تو وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے، اس لیے ویکسینیشن کے پروگراموں میں مسلسل نگرانی اور تعاون ضروری ہے۔
