انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے کو بتایا کہ ترکی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دونوں رہنماؤں نے انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں جنگ، علاقائی کشیدگی اور آئندہ نیٹو سمٹ کی تیاریوں پر بھی بات کی۔ ترکی کی کمیونیکیشنز ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ایردوان نے بڑھتی ہوئی علاقائی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اتحادیوں کے درمیان مزید مضبوط یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
ترک بیان کے مطابق ایردوان نے کہا کہ انقرہ ماسکو اور کیف کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ رُٹے کے ساتھ ملاقات میں وسیع تر علاقائی اور عالمی معاملات بھی زیر بحث آئے، ساتھ ہی نیٹو کے ایجنڈے اور سمٹ کی تیاریوں پر بھی بات ہوئی۔
ترکی طویل عرصے سے اس جنگ میں ممکنہ ثالث کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں وہ یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ رابطے بھی برقرار رکھتا ہے۔ اس کردار کی وجہ سے انقرہ جنگ بندی کے امکانات، بحیرہ اسود کی سلامتی اور ممکنہ امن اقدامات پر ہونے والی بات چیت میں شامل رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے حوالے سے سفارتی پیش رفت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق یوکرین تعطل کا شکار امن کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے نئے طریقے تلاش کر رہا ہے، جن میں ترکی جیسے تیسرے ممالک میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کا امکان بھی شامل ہے۔
