صدر سیرل رامافوسا نے ملک کے اعلیٰ ترین قانون نافذ کرنے والے عہدیدار، نیشنل پولیس کمشنر فینی ماسیمولا کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ منگل کی شب ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے اس فیصلے نے جنوبی افریقہ کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں پولیس کے اندر احتساب کا معاملہ پہلے ہی ایک حساس موڑ پر ہے۔
یونین بلڈنگز سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "نیشنل کمشنر کے دفتر کا وقار سب سے مقدم ہے۔” رامافوسا کا یہ فوری اقدام اس عوام کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو ملک کی قیادت میں مبینہ استثنیٰ اور لاقانونیت سے شدید نالاں ہے۔
اپوزیشن جماعتیں کئی ماہ سے ماسیمولا کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس کے محکمے میں شفافیت کا فقدان ہے اور ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے میں قیادت ناکام رہی ہے۔ اس معطلی نے ماسیمولا کو اس وقت تک کے لیے سائیڈ لائن کر دیا ہے جب تک عدالت شواہد کا جائزہ نہیں لے لیتی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جنوبی افریقہ ایک نازک مخلوط حکومت کے دور سے گزر رہا ہے۔ پولیس فورس میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال پولیس سروس کو پیشہ ورانہ بنانے کی حالیہ کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ٹیبیلو موسیکیلی کو عبوری سربراہ مقرر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا وہ اس بحرانی کیفیت میں محکمے کا اعتماد بحال رکھ پائیں گی۔
قانونی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کیس مہینوں تک کھنچ سکتا ہے، جس سے پولیس سروس ایک انتظامی تعطل کا شکار رہے گی۔ اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو یہ جمہوری دور میں پہلی بار ہوگا کہ کوئی حاضر سروس پولیس کمشنر اس نوعیت کی سزا کا سامنا کر رہا ہو۔
دوسری جانب، ماسیمولا نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے "سیاسی طور پر محرک مہم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے لیبر کورٹ میں اس معطلی کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
