لاہور کے اچھرہ بازار میں ایک افسوسناک واقعے نے اس وقت توجہ حاصل کی جب سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ایک خاتون کو ایک ہجوم کے گھیرے میں شدید کشیدہ صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، خاتون کو مبینہ طور پر اس کے لباس پر ہجوم کی جانب سے ہراساں کیا گیا، جس پر عربی خطاطی موجود تھی جسے بعض افراد نے غلط طور پر مذہبی عبارت سمجھ لیا۔ صورتحال تیزی سے بگڑ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر خاتون کے خلاف نعرے بازی اور دباؤ ڈالنے لگے۔
پولیس اہلکار، جن میں ایک خاتون افسر بھی شامل تھیں، نے فوری طور پر مداخلت کی، خاتون کو محفوظ طریقے سے ہجوم سے نکالا اور موقع پر حالات کو قابو میں کیا۔
بعد ازاں حکام نے اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ہجوم کے رویے، عدم برداشت اور عوامی تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ لاہور کے ایک مصروف تجارتی علاقے میں پیش آیا، جس نے غیر قانونی ہجوم (وِجلینٹ ازم) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اسے شدید تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، جو غلط معلومات، ہراسانی اور ہجوم کے رویے جیسے مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔
