1986 کے ایٹمی حادثے کے چالیس برس بعد چرنوبل ایک بار پھر خطرے کی علامت بن گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار خطرہ ری ایکٹر کے پھٹنے سے نہیں، بلکہ جنگ سے پیدا ہوا ہے۔ اس سانحے کی چالیسویں برسی پر یوکرینی حکام، ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ روس کی جنگ نے ایک ایسے مقام پر نئی تباہی کی تہہ چڑھا دی ہے جو پہلے ہی تاریخ کے بدترین ایٹمی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔
اس بارشِ خطرات کی سب سے نمایاں علامت فروری 2025 کا وہ حملہ ہے جس میں ایک روسی ڈرون نے نیو سیف کنفائنمنٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ وہ دیوہیکل حفاظتی ڈھانچا ہے جو تباہ شدہ ری ایکٹر کے اوپر اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ تابکار مواد کو محدود رکھا جا سکے اور مستقبل میں محفوظ تکنیکی کام جاری رہ سکے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اس نقصان کی مرمت پر کم از کم 500 ملین یورو لاگت آ سکتی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے ایک ہی وار سے کتنی بڑی تکنیکی اور مالی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے یہ برسی محض یاد کا موقع نہیں رہی۔ چرنوبل کو برسوں تک ایک ایسا مقام سمجھا جاتا رہا جسے عالمی تعاون، سخت نگرانی اور انجینیئرنگ کے ذریعے کسی حد تک قابو میں کر لیا گیا تھا۔ مگر جنگ نے اسے دوبارہ ایک زندہ سلامتی بحران میں بدل دیا ہے۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹنگ کے مطابق چرنوبل اب صرف ماضی کی تباہی کی نشانی نہیں، بلکہ موجودہ جنگی خطرات کا بھی مرکز بن چکا ہے۔
اس منظر میں ایک تلخ علامت بھی پوشیدہ ہے۔ 1986 میں چرنوبل نے دنیا کو تکنیکی ناکامی، خفیہ کاری اور تاخیر سے سامنے آنے والی حقیقت کی قیمت دکھائی تھی۔ 2026 میں یہی مقام یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا کوئی بھی جوہری تنصیب واقعی جنگ سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چرنوبل ایک اور ری ایکٹر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کے تحفظ کے بارے میں پرانے یقین اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔
ماہرین اور حکام نے فوری تابکاری خطرے کے بارے میں محتاط زبان استعمال کی ہے، مگر وہ اس نقصان کو معمولی واقعہ نہیں قرار دے رہے۔ نیو سیف کنفائنمنٹ کئی دہائیوں کے لیے ایک حفاظتی رکاوٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، اس لیے اس میں کسی بھی درجے کی سنجیدہ خرابی اہم سمجھی جاتی ہے۔ مسئلہ صرف اسٹیل، بیرونی تہہ یا ڈھانچے کی مرمت کا نہیں، بلکہ اس اعتماد کی بحالی کا بھی ہے کہ جنگی ماحول میں اس مقام کو واقعی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
یوکرین کے لیے چرنوبل کی یہ برسی اب صرف ماضی کو یاد کرنے کا لمحہ نہیں رہی، بلکہ موجودہ کمزوریوں کی یاد دہانی بھی بن گئی ہے۔ اخراجی زون اب بھی ماضی کے سائے میں ہے، مگر اب ماضی اس کی پوری کہانی نہیں۔ چالیس برس بعد چرنوبل یہ یاد دلاتا ہے کہ بعض تباہیاں تاریخ میں دفن نہیں ہوتیں؛ جنگ اور سیاست انہیں دوبارہ حال میں کھینچ لاتی ہیں۔
