نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون اور سرینا ہوٹل کے اطراف نافذ ٹریفک پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں آج سے اٹھا لی گئی ہیں اور اسلام آباد و راولپنڈی کے شہریوں کے صبر اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
یہ پابندیاں گزشتہ چند روز سے وفاقی دارالحکومت میں سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت نافذ تھیں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ہدایات کے مطابق ریڈ زون اور ایکسٹینڈڈ ریڈ زون کو مکمل طور پر بند رکھا گیا تھا، جبکہ کورال سے زیرو پوائنٹ تک اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی ٹریفک معطل کی گئی تھی۔ بعض اوقات سری نگر ہائی وے پر بھی آمدورفت محدود کیے جانے کی ہدایات جاری ہوئی تھیں۔
ان پابندیوں کی بنیادی وجہ اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی غیرملکی وفود کی آمد اور ممکنہ سفارتی رابطے بتائے گئے۔ سرینا ہوٹل اس پورے سکیورٹی پلان کا مرکزی مقام بنا رہا، جبکہ شہر کے مختلف حساس علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بڑھا دی گئی تھی۔ اس دوران شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت بھی کی جاتی رہی۔
پابندیوں کے باعث نہ صرف مرکزی شاہراہوں پر دباؤ بڑھا بلکہ جڑواں شہروں کے روزمرہ معمولات بھی متاثر ہوئے۔ اس سے پہلے بعض علاقوں میں سکیورٹی اور ٹریفک بندشوں میں نرمی کی گئی تھی، تاہم ریڈ زون بدستور بند رہا تھا۔ اب اسحاق ڈار کے بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ریڈ زون اور سرینا ہوٹل کے اطراف فوری نوعیت کی ٹریفک رکاوٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔
اگرچہ پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، لیکن حالیہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ امکان موجود ہے کہ آئندہ کسی اہم وفد یا ملاقات کی صورت میں دوبارہ خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نتیجہ حالیہ سکیورٹی انتظامات کے تسلسل سے اخذ کیا جا رہا ہے۔
