پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ، یعنی جولائی تا مارچ، کے دوران مشینری کی درآمدات 10.28 فیصد بڑھ کر 7.866 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 7.133 ارب ڈالر تھیں۔ تازہ اعدادوشمار یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ صنعتی شعبے میں ایک بار پھر کچھ حرکت پیدا ہوئی ہے، خاص طور پر اُن شعبوں میں جہاں پیداواری صلاحیت بڑھانے یا پرانا سازوسامان بدلنے کی ضرورت تھی۔
درآمدی اشیا کی درجہ بندی پر نظر ڈالیں تو تصویر اور بھی واضح ہوتی ہے۔ تعمیرات اور کان کنی میں استعمال ہونے والی مشینری کی درآمدات میں 72.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تقریباً 124 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ٹیکسٹائل مشینری 20.17 فیصد بڑھ کر لگ بھگ 395 ملین ڈالر رہی، جبکہ پاور جنریٹنگ مشینری کی درآمدات 16.57 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 630 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ دفتری مشینری اور آٹومیٹک ڈیٹا پروسیسنگ آلات کی درآمدات بھی 15.34 فیصد بڑھ کر 238 ملین ڈالر کے قریب رہیں، جو اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہیں کہ کاروباری ادارے ابھی بھی بنیادی آپریشنل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ٹیلی کام سے متعلق درآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ ٹیلی کام آلات کی درآمدات 12.82 فیصد بڑھ کر تقریباً 1.34 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ موبائل فونز کی درآمدات 11.62 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 1.30 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ اس کے برعکس برقی مشینری اور متعلقہ آلات کی درآمدات میں 20.60 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی اور یہ قریباً 736 ملین ڈالر رہیں۔ یعنی مجموعی رجحان اوپر ہے، مگر تمام ذیلی شعبے ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔
وسیع تر تجارتی منظرنامہ بھی اسی دوران دباؤ اور بحالی، دونوں کی کہانی سناتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی تا مارچ FY2025-26 میں مجموعی درآمدات بڑھیں، جبکہ تجارتی اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ بیرونی شعبے پر دباؤ بدستور موجود ہے۔ سرکاری تجارتی اشاریے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی درآمدی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا ایک حصہ صنعتی مشینری سے جڑا ہوا ہے۔
اس رجحان کو معیشت کے بڑے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپریل 2026 کے اپنے اکنامک آؤٹ لک میں پاکستان کی شرح نمو FY2026 کے لیے 3.5 فیصد رکھی ہے، جبکہ FY2025 میں یہ 3.1 فیصد تھی۔ بینک کے مطابق اس بہتری کی ایک اہم وجہ مینوفیکچرنگ میں بحالی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشینری درآمدات میں اضافہ محض ایک تجارتی عدد نہیں، بلکہ اسے صنعتی بحالی کے ممکنہ اشارے کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے۔
البتہ احتیاط ضروری ہے۔ زیادہ مشینری درآمد ہونے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فیکٹریاں پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہیں، نئے آرڈرز کی تیاری کر رہی ہیں یا مالی حالات کچھ بہتر ہونے پر مؤخر خریداریوں کو مکمل کر رہی ہیں۔ لیکن اصل امتحان آگے ہے: اگر انہی مہینوں میں صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار میں بھی واضح بہتری نظر آتی ہے تو یہ اضافہ ایک حقیقی بحالی سمجھا جائے گا۔ ورنہ یہ صرف وقتی خریداری بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
