پاکستان کے جوڈیشل کمیشن نے ۲۸ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی دیگر ہائی کورٹس میں منتقلی کی منظوری دے دی، جس کے بعد عدلیہ کی خودمختاری، عدالتی ڈھانچے اور ججوں کے تبادلوں سے متعلق آئینی اختیار پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس سمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تبادلوں کا طریقۂ کار پہلے ہی شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ اس آئینی ترمیم کے تحت آگے بڑھا جس کے بعد ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی کے لیے پہلے جیسی رضامندی کی شرط برقرار نہیں رہی۔ اسی تبدیلی نے قانونی حلقوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا یہ نظام انتظامی ضرورت پوری کرتا ہے یا عدالتی آزادی پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
اس پیش رفت سے پہلے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعدد ججوں کے نام ممکنہ منتقلی کے لیے زیرِ غور آنے کی اطلاعات تھیں۔ ان ناموں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس سمن رفعت امتیاز کے علاوہ چند دیگر جج بھی شامل بتائے گئے تھے، تاہم آخرکار منظوری تین ججوں کی منتقلی تک محدود رہی۔
قانونی اور عدالتی حلقوں میں اس معاملے کی حساسیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ججوں کی تقرری اور منتقلی سے متعلق ایک وسیع ادارہ جاتی کشمکش کے مرکز میں رہی ہے۔ اسی لیے تازہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے عدالتی توازنِ قوت، سینیارٹی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بعض قانونی آرا میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ غیر رضاکارانہ منتقلی کا اختیار عدالتی آزادی کے اصول پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد توجہ اب اس بات پر رہے گی کہ آیا ان تبادلوں کو صرف معمول کی عدالتی تنظیمِ نو کے طور پر لیا جاتا ہے یا یہ آئندہ مزید ججوں کے تبادلوں کے لیے ایک نظیر بنیں گے۔ جو بات ابھی واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہ منظوری پاکستان میں عدالتی نظام کے اندر اختیار، خودمختاری اور آئینی تشریح سے متعلق بحث کو مزید گہرا کرے گی۔
