انگلینڈ کے اوپنر جیسن رائے نے پہلی بار کھل کر کہا ہے کہ انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے انہیں PSL 11 سے قبل برقرار نہیں رکھا، حالانکہ وہ خود سمجھتے تھے کہ فرنچائز کے ساتھ ان کا تعلق اچھا رہا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق رائے نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اب کراچی کنگز کے ساتھ خوش ہیں اور آگے بڑھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ رائے محض ایک عام غیرملکی کھلاڑی نہیں تھے۔ وہ کئی سیزنز تک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا نمایاں حصہ رہے، اور پھر PSL 11 کی ریٹینشن لسٹ میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ جیو سپر کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ نے نیلامی سے پہلے اپنی برقرار رکھی گئی فہرست جاری کی، مگر رائے اس میں موجود نہیں تھے۔
کوئٹہ کے فیصلے نے اسی وقت توجہ حاصل کر لی تھی، کیونکہ فرنچائز نے اپنے محدود ریٹینشن سلاٹس میں ابرار احمد، عثمان طارق، حسن نواز اور شامل حسین کو برقرار رکھا۔ اس تناظر میں رائے کا باہر رہ جانا ایک بڑا فیصلہ سمجھا گیا، خاص طور پر اس لیے کہ وہ ماضی میں ٹیم کے لیے اہم اننگز کھیل چکے تھے اور مداحوں میں بھی خاصی پہچان رکھتے تھے۔
بعد ازاں کراچی کنگز نے رائے کو محمد وسیم کے متبادل کے طور پر اسکواڈ میں شامل کر لیا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ شمولیت PSL 2026 کے دوران ہوئی، جس سے رائے کو ٹورنامنٹ میں فوری واپسی کا راستہ مل گیا۔ یوں کہانی صرف “نظرانداز کیے جانے” کی نہیں رہی، بلکہ اب یہ ایک نئے باب کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں رائے اپنے سابقہ فرنچائز کے بعد نئی ٹیم کے ساتھ خود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
رائے کے تبصروں میں تلخی کم اور حقیقت زیادہ محسوس ہوئی۔ انہوں نے معاملے کو کھلی محاذ آرائی نہیں بنایا، مگر یہ ضرور واضح کر دیا کہ وہ اس فیصلے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ یہی چیز اس خبر کو وزن دیتی ہے: ایک ایسا بیٹر جو برسوں تک فرنچائز سے جڑا رہا، اب خود مان رہا ہے کہ اسے چھوڑا جانا اس کے لیے غیرمتوقع تھا۔
