عالمی اسنوکر چیمپئن ژاؤ ژن تھونگ کی ٹائٹل دفاعی مہم کروسیبل تھیٹر، شیفیلڈ میں ختم ہو گئی، جہاں وہ کوارٹر فائنل میں شان مرفی کے ہاتھوں 10-13 سے شکست کھا گئے۔ اس نتیجے کے ساتھ اسنوکر کی مشہور اصطلاح “کروسیبل کرس” بھی برقرار رہی، کیونکہ 1977 میں ورلڈ چیمپئن شپ کے کروسیبل منتقل ہونے کے بعد اب تک کوئی بھی پہلی بار عالمی ٹائٹل جیتنے والا کھلاڑی اگلے برس کامیابی سے اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کر سکا۔
ژاؤ اس سال دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے اور ابتدا میں ان کی پیش رفت خاصی مضبوط دکھائی دی۔ انہوں نے پہلے راؤنڈ میں لیام ہائی فیلڈ کو 7-10 سے شکست دی، پھر آخری 16 کے مرحلے میں ڈنگ جونہوئی کو 9-13 سے ہرا کر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ ان نتائج نے یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید اس بار وہ پرانا طلسم توڑ دیں، مگر شان مرفی نے فیصلہ کن مرحلے میں ان کی راہ روک دی۔
کوارٹر فائنل خود بھی ایک سیدھا سادہ مقابلہ نہیں تھا۔ رپورٹوں کے مطابق ژاؤ نے ابتدا میں 0-3 کی برتری حاصل کی، لیکن مرفی نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا۔ ایک مرحلے پر مقابلہ 8-8 سے برابر بھی ہوا، مگر آخری سیشن میں مرفی زیادہ پختہ، زیادہ منظم اور زیادہ بے رحم ثابت ہوئے، اور 10-13 سے کامیابی سمیٹ کر سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔
اس شکست کے بعد ژاؤ کا نام بھی ان دفاعی چیمپئنز کی فہرست میں شامل ہو گیا جو پہلے عالمی ٹائٹل کے بعد اگلے سال کروسیبل میں اعزاز برقرار نہ رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ “کروسیبل کرس” محض ایک صحافتی جملہ نہیں رہا؛ اب یہ اسنوکر کی تاریخ کا ایسا رجحان بن چکا ہے جو ہر نئے چیمپئن کے سر پر اگلے سال منڈلاتا رہتا ہے۔ ژاؤ کے معاملے میں بھی دباؤ صرف ایک میچ کا نہیں تھا، بلکہ تاریخ کا بھی تھا۔
مرفی کے لیے یہ جیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ 2005 کے عالمی چیمپئن اب 2026 کے سیمی فائنل میں جان ہگنز کے مدمقابل ہیں، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں مارک ایلن اور وو یزے آمنے سامنے ہیں۔ ورلڈ اسنوکر ٹور کے شیڈول کے مطابق فائنل 3 اور 4 مئی کو کھیلا جانا ہے، اس لیے ژاؤ کی رخصتی کے بعد اب ٹورنامنٹ کو ایک نئے چیمپئن کا انتظار ہے۔
اس شکست کے باوجود ژاؤ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ان کی عالمی کامیابی نے چینی اور وسیع تر ایشیائی اسنوکر کو ایک نئی شناخت دی، اور اسی لیے ان کی ہر پیش رفت کو محض ایک انفرادی کارکردگی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ وہ ٹائٹل تو نہ بچا سکے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ موجودہ دور کے اہم ترین اسنوکر کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ اس بار کروسیبل ان پر بھاری پڑا، لیکن ان کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
