[12:27 AM, 5/1/2026] Ayesha: حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت میں 6.51 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 19.39 روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہو گیا ہے، اور اس کے بعد پٹرول 399.86 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 399.58 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
ڈیزل میں زیادہ اضافے کو خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر مال برداری، زرعی مشینری، بسوں، ٹرکوں اور صنعتی ترسیل کے نظام پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ اضافہ صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ چند ہی دنوں میں کرایوں، اشیائے خور و نوش کی ترسیل اور مجموعی کاروباری لاگت میں بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔
حالیہ فیصلے نے مہنگائی کے دباؤ میں گھرے عوام اور کاروباری حلقوں دونوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ عموماً موٹر سائیکل، کار اور عام سفری اخراجات کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے بازار تک سامان پہنچانے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ایندھن کی قیمت میں اضافہ وسیع تر معیشت میں سرایت کرنا شروع کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی قیمتیں ایک مختصر مدتی نظرِثانی کے تحت مقرر کی گئی ہیں، جس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اب مقامی قیمتوں پر زیادہ تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں صارفین اور کاروبار دونوں کو صرف مہنگے ایندھن ہی نہیں بلکہ قیمتوں کے تسلسل سے غیر یقینی پن کا بھی سامنا ہے۔
مختصراً، پٹرول اب 400 روپے فی لیٹر کی حد کے قریب پہنچ چکا ہے اور ڈیزل عملاً اس سطح کو چھو رہا ہے۔ اس فیصلے کے اثرات آنے والے دنوں میں ٹرانسپورٹ، منڈیوں اور گھریلو بجٹ پر مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
