لاہور: حیدرآباد کنگزمین کے فاسٹ بولر محمد علی پر پاکستان سپر لیگ کے ایلیمینیٹر 2 میں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ یہ کارروائی یکم مئی 2026 کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے بعد کی گئی، جبکہ سزا کی اطلاع 2 مئی 2026 کو سامنے آئی۔
رپورٹس کے مطابق محمد علی نے لیول 1 جرم کا ارتکاب کیا اور ان پر آرٹیکل 2.21 کے تحت کارروائی ہوئی، جو ایسے رویے سے متعلق ہے جو کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ واقعہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی اننگز کے 16ویں اوور میں پیش آیا، جب محمد علی اور مارک چیپمین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ آن فیلڈ امپائرز احسن رضا اور شاہد ثاقب نے یہ چارج عائد کیا، جبکہ میچ ریفری روشن مہانامہ نے سزا سنائی۔
محمد علی نے الزام تسلیم کر لیا، اس لیے باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ فوری طور پر نمٹا دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مختصر واقعہ تھا، لیکن ناک آؤٹ میچ کے دباؤ میں ایسے لمحات اکثر خبر کا رخ بدل دیتے ہیں۔
میچ خود بھی نہایت سنسنی خیز تھا۔ حیدرآباد کنگزمین نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 186 رنز بنائے، جس کے جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ 184/7 تک محدود رہی، اور یوں حیدرآباد نے مقابلہ 2 رنز سے جیت کر فائنل میں جگہ بنا لی۔ ایسے اعصاب شکن میچ میں جذبات کا بھڑک اٹھنا غیر معمولی نہیں، مگر ضابطۂ اخلاق پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔
محمد علی کے لیے یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ اس سیزن میں حیدرآباد کے مؤثر بولرز میں شمار ہو رہے ہیں۔ ایک اہم مرحلے پر ان پر جرمانہ عائد ہونا ٹیم کے لیے خوش آئند نہیں، خاص طور پر اس وقت جب ہر کھلاڑی سے نظم و ضبط اور کارکردگی دونوں کی توقع کی جا رہی ہو۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حیدرآباد کنگزمین کے لیے اصل کامیابی فائنل تک رسائی ہے، لیکن محمد علی کا یہ واقعہ ایک یاددہانی بھی ہے: بڑے میچ صرف بیٹ اور بال سے نہیں جیتے جاتے، مزاج بھی قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔
