کراچی: کراچی پورٹ پر ایک ہفتے کے صفائی آپریشن کے دوران 16 ہزار 430 کلوگرام کچرا ہٹا دیا گیا، جس سے بندرگاہی حدود میں بڑھتی آلودگی اور صفائی کے دباؤ کی سنگینی ایک بار پھر سامنے آ گئی۔
یہ کارروائی محض معمول کی صفائی نہیں سمجھی جا رہی، کیونکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق بندرگاہی پانی پہلے ہی صنعتی اور شہری فضلے کے مسلسل دباؤ میں ہے۔ کے پی ٹی اپنی سرکاری معلومات میں کہتا ہے کہ کراچی ہاربر اور ساحلی پٹی کو روزانہ تقریباً 400 ملین گیلن غیر علاج شدہ صنعتی و بلدیاتی فضلہ متاثر کرتا ہے، جو سمندری ماحول، آبی حیات اور بندرگاہی سرگرمیوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
کراچی پورٹ پاکستان کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ کے پی ٹی کے مطابق یہ بندرگاہ نہ صرف ملکی درآمدات و برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے بلکہ افغانستان، وسطی ایشیا اور مغربی چین کے لیے بھی ایک علاقائی تجارتی دروازے کی حیثیت رکھتی ہے۔ بندرگاہ کا مجموعی رقبہ تقریباً 33 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے، اس لیے صفائی اور بحری راستوں کو قابلِ استعمال رکھنا صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ تجارتی مجبوری بھی ہے۔
کے پی ٹی کے تازہ کارگو اعداد و شمار کے مطابق 21 جنوری سے 21 اپریل 2026 کے درمیان کراچی پورٹ نے تقریباً 11.865 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا، جبکہ اسی مدت میں قریب 0.569 ملین ٹی ای یوز کنٹینر ٹریفک ریکارڈ کی گئی۔ اتنی بھاری سرگرمی کے درمیان بندرگاہی حدود میں جمع ہونے والا کچرا نیویگیشن، آپریشنز اور حفاظت تینوں کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بارشوں کے بعد کراچی کی بندرگاہوں پر آلودگی کے دباؤ میں اضافے کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق بارش کے پانی کے ساتھ نالوں کے ذریعے سیوریج، ٹھوس کچرا، تیل کی تہہ اور صنعتی فضلہ بندرگاہی پانی تک پہنچتا ہے، جس سے نہ صرف ساحلی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ سمندری حیات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ ہفتہ وار صفائی آپریشن اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ 16,430 کلوگرام کچرے کی صفائی ایک طرف بندرگاہی نظم و نسق کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی بتاتی ہے کہ کراچی کے سمندری ماحول پر دباؤ معمولی نہیں رہا۔ ماہرین کے نزدیک اگر مستقل صفائی، فضلہ روکنے کے مؤثر اقدامات اور نکاسی آب کے بہتر نظام پر توجہ نہ دی گئی تو بندرگاہی پانی کی آلودگی مستقبل میں مزید بڑا انتظامی اور ماحولیاتی بحران بن سکتی ہے۔
