پاکستان اب خصوصی اقتصادی زونز، یعنی ایس ای زیڈز، کی کہانی نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ وہی ہے: جن زونز کو سی پیک کے تحت صنعتی تبدیلی، روزگار اور برآمدی نمو کا بڑا ذریعہ بننا تھا، ان میں سے بہت سے منصوبے مقررہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ سرکاری اور پالیسی سطح کی دستاویزات کے مطابق سی پیک فریم ورک میں ابتدا میں 9 خصوصی اقتصادی زونز کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر عملی پیش رفت اس رفتار سے نہیں ہوئی جس کا ابتدائی دعووں میں تاثر دیا گیا تھا۔
اب حکومت اور متعلقہ اداروں کی زبان بدل چکی ہے۔ جنوری 2026 میں سرمایہ کاری بورڈ کے بریفنگ سیشن میں بتایا گیا کہ 2019 میں منظور شدہ زونز کی تعداد 7 تھی جو 2025 تک بڑھ کر 44 ہو گئی۔ اسی بریفنگ میں سی پیک فیز ٹو کو ایسی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مرکز برآمدات، صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور چین کے ساتھ کاروبار سے کاروبار روابط ہیں۔ مطلب صاف ہے: اب زور صرف انفراسٹرکچر پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ان زونز سے واقعی برآمدی معیشت کیسے بنائی جائے۔
یہ تبدیلی کسی اچانک وژن کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طرح کی اصلاحی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ کئی تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ زیادہ تر سڑکوں، توانائی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر مرکوز رہا، جبکہ صنعتی تعاون اور برآمدی ڈھانچے کی تعمیر اس رفتار سے نہیں ہو سکی جس کی توقع تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب فیز ٹو کو “ایکسپورٹ لیڈ” رخ دے کر پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ سی پیک کو محض تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ صنعتی اور تجارتی پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔
مسئلہ مگر صرف پالیسی بیان کا نہیں، عملدرآمد کا ہے۔ ایس ای زیڈز کے سلسلے میں برسوں سے ایک ہی قسم کی رکاوٹیں سامنے آتی رہی ہیں: وفاق اور صوبوں کے درمیان کمزور ہم آہنگی، زمین اور بنیادی سہولیات کے مسائل، سرمایہ کاروں کی محدود دلچسپی، توانائی و لاجسٹکس کی کمزوریاں، اور مجموعی معاشی و سیاسی غیر یقینی صورتحال۔ یہی وہ وجوہ ہیں جنہوں نے ان زونز کو کاغذی ترجیحات سے نکال کر مکمل صنعتی مراکز میں بدلنے کے عمل کو سست رکھا۔
اس کے باوجود اسلام آباد اور بیجنگ دونوں بظاہر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو ترک نہیں کیا گیا۔ ستمبر 2025 میں پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے اور مشترکہ منصوبے طے پائے، جنہیں سی پیک 2.0 کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ان اعلانات میں زراعت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک وہیکلز، صحت، اسٹیل اور دیگر شعبے شامل تھے، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ اب تعاون کو زیادہ پیداوار، صنعت اور تجارت سے جوڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
تاہم زمینی حقیقت اب بھی آسان نہیں۔ چینی عملے اور منصوبوں کی سکیورٹی، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بیوروکریٹک تاخیر، اور مقامی سطح پر انفراسٹرکچر کی کمزوریاں وہ عوامل ہیں جو ہر نئے دعوے کو عملی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں چین نے متعدد مواقع پر پاکستان میں اپنے شہریوں اور منصوبوں کی سکیورٹی پر زور دیا، جو اس پورے فریم ورک کی حساسیت کو واضح کرتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو اصل خبر یہی ہے: پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کے وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جو سی پیک کے ابتدائی وژن میں نمایاں تھے۔ اب فیز ٹو میں توجہ برآمدات، صنعتی پیداوار اور سپلائی چین سے جڑنے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ نیا بیانیہ اسی وقت قابلِ یقین بنے گا جب زونز واقعی فعال ہوں، سرمایہ کار آئیں، پیداوار بڑھے اور برآمدات میں قابلِ پیمائش اضافہ نظر آئے۔ اس کے بغیر، خطرہ یہی ہے کہ ایس ای زیڈز ایک بار پھر اعلانوں میں آگے اور زمین پر پیچھے رہ جائیں۔
