امریکی شہروں میں 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے ہوٹل بکنگ کی رفتار سست روی کا شکار ہے، جس نے مقامی سیاحتی اور مہمان نوازی کے شعبے کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ منتظمین کو توقع تھی کہ تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی کمروں کے لیے ہوڑ مچ جائے گی، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
ٹریول ڈیٹا فراہم کرنے والی فرمز اور مقامی ہوٹل ایسوسی ایشنز کے مطابق، عالمی ایونٹس کے لیے برسوں پہلے نظر آنے والا رش فی الحال کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ اس سستی کی بڑی وجہ ہوٹلوں کی جانب سے مقرر کردہ بھاری کرائے اور میچز کے شیڈول کے حوالے سے شائقین میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔
جن ہوٹلوں نے اس ایونٹ کو "نسل میں ایک بار ملنے والا موقع” سمجھ کر بھاری سرمایہ کاری کی تھی، اب وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ میامی، ڈلاس اور لاس اینجلس جیسے شہروں میں ہوٹل مالکان نے ایونٹ کے شروع ہونے سے بہت پہلے ہی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا تھا، جس نے عام سیاحوں کو متبادل رہائش کی تلاش یا بکنگ ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس صورتحال پر ایک انڈسٹری تجزیہ کار کا کہنا ہے، "ہوٹلوں کی قیمتوں کی حکمت عملی الٹی پڑ گئی ہے۔ انہوں نے شیڈول فائنل ہونے سے پہلے ہی پیک ریٹس لاگو کر دیے، اور اب انہیں اندازہ ہو رہا ہے کہ مارکیٹ ان قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔”
یہ مسئلہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ 16 شہروں میں پھیلا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شائقین اپنی ٹیموں کے میچز کا حتمی اعلان ہونے تک انتظار کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے پیچیدہ شیڈول اور سفری پیکیجز کی عدم دستیابی نے شائقین کو "دیکھو اور انتظار کرو” کی پالیسی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
مقامی ٹورازم بورڈز اب صورتحال کو سنبھالنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ کئی شہروں میں حکام ہوٹل مالکان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی سخت شرائط، مثلاً ‘کم از کم قیام’ (minimum-stay) کی پابندیوں کو نرم کریں، تاکہ وہ شائقین بھی بکنگ کروا سکیں جو صرف ایک میچ دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔
اگرچہ موجودہ اعداد و شمار مایوس کن ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ گھبراہٹ قبل از وقت ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بڑے کھیلوں کے ایونٹس میں دیکھا گیا ہے کہ ٹیموں کے گروپس فائنل ہونے اور فین زونز کے اعلان کے بعد بکنگ میں اچانک تیزی آتی ہے۔
تاہم فی الحال، شہروں کے مہنگے ترین علاقوں میں خالی کمرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ صرف میزبانی کے حقوق مل جانا ہی منافع کی ضمانت نہیں ہے۔ اگر ہوٹل مالکان نے اپنی قیمتوں اور پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی، تو یہ ٹورنامنٹ سٹیڈیم میں شائقین تو لائے گا، لیکن مقامی ہوٹل انڈسٹری کے لیے وہ مالی منافع نہیں لا سکے گا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
