امریکا اور ایران کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کو 7 مئی کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں پر حملہ ہوا، جس کے بعد امریکا نے جوابی کارروائی کی اور تہران نے واشنگٹن پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگا دیا۔ اس کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور امریکی کارروائی کو ایک محدود ردِعمل قرار دیا، نہ کہ کسی نئی وسیع جنگی مہم کا آغاز۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی فورسز نے خلیجِ عمان کی جانب بڑھنے والے امریکی بحری بیڑے کے تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز — یو ایس ایس ٹرکسن، یو ایس ایس رافیل پرالٹا اور یو ایس ایس میسن — کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے کسی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا، جبکہ جوابی کارروائی میں آنے والے خطرات کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ان فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے حملے کیے گئے تھے۔
ایران نے اس کے برعکس ایک مختلف مؤقف اختیار کیا۔ ایرانی حکام اور ریاستی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے پہلے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں اور ساحلی علاقوں، خاص طور پر قشم جزیرے کے اطراف، حملے کیے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی امریکی اشتعال انگیزی کے جواب میں تھی۔ یوں دونوں ملک ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، اور ابھی تک کسی آزاد ذریعے سے ان متضاد دعوؤں کی مکمل توثیق نہیں ہو سکی۔
اس ساری کشیدگی میں ٹرمپ کا مؤقف خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے اس جھڑپ کو جنگ بندی کے خاتمے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے ایک محدود واقعہ قرار دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی “اب بھی مؤثر” ہے اور امریکا کی کارروائی صرف اپنے دفاع میں کی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی کہ اگر ایران نے کسی مفاہمتی راستے پر تیزی سے پیش رفت نہ کی تو اگلا امریکی ردِعمل کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی ترسیل کے حساس ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اسی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحری آمدورفت میں رکاوٹیں اور تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات پہلے ہی موجود تھے۔ تازہ جھڑپ نے یہ خوف پھر زندہ کر دیا ہے کہ اگر یہ تنازع بڑھا تو عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت پر فوری اثرات پڑ سکتے ہیں۔
حال ہی میں قائم ہونے والی جنگ بندی، جو 8 اپریل 2026 سے بڑی حد تک برقرار چلی آ رہی تھی، اب واضح دباؤ میں دکھائی دیتی ہے۔ بعض رپورٹس میں پاکستان کو پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک بھی قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اب بھی بظاہر یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ جنگ بندی کو بچایا جا سکتا ہے، چاہے سمندر میں فائرنگ کا تبادلہ ہی کیوں نہ ہو چکا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورتحال اب بہت نازک ہو گئی ہے، اور ایک اور بڑا واقعہ پورے فریم ورک کو زمین بوس کر سکتا ہے۔
فی الحال منظر نامہ یہی ہے: دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، محدود فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں، اور دونوں ہی مکمل جنگ سے بچنے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔ کاغذوں میں جنگ بندی شاید موجود ہو، مگر زمینی حقیقت میں وہ بری طرح کمزور، مشروط اور کسی بھی اگلی لغزش سے ختم ہونے کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
