امریکہ کے یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم نے ایک بار پھر سفارش کی ہے کہ بھارت کو “Country of Particular Concern” یعنی ایسے ملک کے طور پر نامزد کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں۔ کمیشن نے اپنی 2026 سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں 2025 کے دوران مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔
یہ سفارش اہم ضرور ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی پالیسی خودبخود تبدیل ہو گئی ہے۔ USCIRF ایک مشاورتی اور آزاد ادارہ ہے۔ کسی ملک کو باضابطہ طور پر CPC قرار دینے کا اختیار امریکی محکمہ خارجہ کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ خود کمیشن کے پاس۔ کمیشن کی اپنی ویب سائٹ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ سفارشات صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کے لیے پالیسی مشورے ہیں۔
بھارت سے متعلق رپورٹ میں کمیشن کا مؤقف ہے کہ مذہبی اقلیتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا، اور نئی قانون سازی یا بعض قوانین کے نفاذ نے اقلیتی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کو متاثر کیا۔ رپورٹ خاص طور پر مختلف ریاستوں کے اینٹی کنورژن قوانین کا ذکر کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ ان قوانین کو زیادہ سخت انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے ان رجحانات کو “systematic, ongoing, and egregious” نوعیت کی خلاف ورزیاں قرار دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے تاہم اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ موجودہ رپورٹنگ کے مطابق نئی دہلی نے USCIRF کی سفارشات کو “محرکات پر مبنی اور جانبدارانہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ بھارت کے جمہوری ڈھانچے اور مذہبی تنوع کی درست عکاسی نہیں کرتیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس کردار کشی کو واضح طور پر رد کیا ہے۔
اصل خبر صرف سفارش نہیں بلکہ اس کے گرد پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی بھی ہے۔ USCIRF ماضی میں بھی بھارت کے لیے یہی مطالبہ کرتی رہی ہے، مگر امریکی محکمہ خارجہ نے پہلے اس سفارش پر عمل نہیں کیا۔ اب تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا واشنگٹن انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے معاملات پر بھارت کے بارے میں سخت مؤقف اپنائے گا یا نہیں۔
