نومبر 22، 2025
ویب ڈیسک
نائیجیریا ایک بار پھر شدید عدمِ تحفظ کی لپیٹ میں ہے، جہاں مسلح گروہوں نے گزشتہ ہفتے مختلف ریاستوں میں اسکولوں اور ایک چرچ پر حملے کرکے درجنوں افراد کو اغوا کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعات زیادہ تر تاوان کے لیے کام کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں سے جڑے ہیں، نہ کہ کسی منظم شدت پسند تنظیم سے۔
کببی ریاست میں ایک مسلم گرلز اسکول پر دھاوا بول کر 25 طالبات کو اغوا کیا گیا جو 2024 کے اوائل کے بعد پہلی بڑی اسکول اغوا کاری ہے۔ اس کے بعد زمفارا میں 64 افراد کو اٹھا لیا گیا، جبکہ کوارا میں ایک چرچ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 38 عبادت گزاروں کو تاوان کے مطالبے کے ساتھ اغوا کر لیا گیا۔ جمعے کے روز یہ سلسلہ اس وقت بھی نہ رکا جب نائجر ریاست میں سینٹ میری کیتھولک اسکول سے 52 طلبہ اغوا کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ دور دراز جنگلات میں پناہ لیتے ہیں اور کمزور سیکورٹی والے اسکولوں کو آسان ہدف سمجھتے ہیں۔ ایک مقامی تجزیہ کار نے بتایا کہ "یہ اُن کے لیے کاروبار بن چکا ہے، اور ریاست کی کمزور موجودگی نے انہیں مزید بے خوف کر دیا ہے۔”
ان حملوں کے بعد ملک میں سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجیریا میں عیسائیوں پر مبینہ مظالم کے حوالے سے ممکنہ اقدامات کے اشارے دیے۔ تاہم نائیجیریا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ تشدد تمام کمیونٹیز کو نشانہ بنا رہا ہے اور مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ مجرمانہ نوعیت کا ہے۔
