جمہوریہ کانگو کے صدر ڈینس ساسو نگیسو نے جمعرات، 16 اپریل 2026 کو اپنی نئی پانچ سالہ صدارتی مدت کے لیے حلف اٹھا لیا۔ اس تقریبِ حلف برداری کے ساتھ ہی ان کی حکمرانی کا ایک اور دور شروع ہو گیا، اور وہ افریقہ کے طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے موجودہ رہنماؤں میں مزید نمایاں ہو گئے۔ حلف برداری کی تقریب دارالحکومت برازاویل کے شمال میں واقع کنتیلے میں منعقد ہوئی۔
سرکاری نتائج کے مطابق ساسو نگیسو نے 15 مارچ کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ آئینی عدالت نے ان کی کامیابی کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 94.90 فیصد ووٹ ملے، جو ابتدائی سرکاری نتائج سے بھی کچھ زیادہ تھے۔ 82 سالہ صدر نے چھ نسبتاً کم معروف امیدواروں کے مقابلے میں انتخاب لڑا اور یوں وہ موجودہ آئینی نظام کے تحت اپنی پانچویں مدت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ تقریب صرف رسمی نوعیت کا سرکاری مرحلہ نہیں تھی، بلکہ کانگو کی سیاست میں ایک طویل تسلسل کی علامت بھی تھی۔ ساسو نگیسو تقریباً 42 برس سے مختلف ادوار میں اقتدار کے مرکز میں رہے ہیں۔ ان کی مسلسل سیاسی موجودگی اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب 2015 کے آئینی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی مدت اور عمر کی حد ختم کر دی گئی، جس کے بعد ان کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے کی راہ ہموار ہوئی۔
تاہم ان کی بھاری کامیابی نے ایک بار پھر انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حزبِ اختلاف سے وابستہ حلقوں اور بعض سول سوسائٹی مبصرین نے دعویٰ کیا کہ انتخابات نہ تو مکمل طور پر آزاد تھے اور نہ ہی شفاف۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کا سیاسی ڈھانچہ اس حد تک حکمران صدر کے زیرِ اثر ہے کہ مقابلہ حقیقی معنوں میں برابری کی بنیاد پر ہو ہی نہیں پاتا۔
اس نئی مدتِ صدارت کا آغاز ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کانگو کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اس وسطی افریقی ملک پر قرضوں کا دباؤ موجود ہے، جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساسو نگیسو کی ایک اور انتخابی کامیابی کو صرف سیاسی تسلسل کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہے کہ آیا وہ ملک کو معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی سے نکالنے کے لیے کوئی واضح راستہ دے سکیں گے۔
یوں بظاہر یہ تقریب استحکام اور اقتدار کے تسلسل کا مظہر تھی، مگر اس کے نیچے وہی پرانے سوال زندہ ہیں: جمہوری عمل کتنا کھلا ہے، اپوزیشن کو کتنی جگہ حاصل ہے، اور کیا اتنے طویل اقتدار کے بعد بھی عوامی مسائل کا مؤثر حل سامنے آ سکے گا؟ کانگو میں ساسو نگیسو کا ایک اور دور شروع ہو گیا ہے، لیکن بحث بھی ساتھ ہی چل رہی ہے۔
