لکھنؤ: بالی ووڈ اداکار ورون دھون نے ایک مداح سے معذرت کی ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ لکھنؤ میں ہونے والے ایک پروموشنل ایونٹ میں ان سے آٹوگراف لینے کے لیے تقریباً پانچ گھنٹے انتظار کرتی رہی، لیکن اداکار چند منٹ بعد ہی وہاں سے چلے گئے۔
یہ واقعہ لکھنؤ کے فینکس مال میں پیش آیا، جہاں ورون دھون اور مرونال ٹھاکر اپنی آنے والی فلم ”ہے جوانی تو عشق ہونا ہے“ کی تشہیر کے لیے پہنچے تھے۔ ایونٹ میں مداحوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں کئی لوگ اداکاروں کی ایک جھلک دیکھنے، تصویر بنوانے یا آٹوگراف لینے کے لیے کئی گھنٹے پہلے ہی مال پہنچ گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایک خاتون مداح، جن کی شناخت دیوانشی تیواری کے نام سے ہوئی، نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً پانچ گھنٹے تک ورون دھون کا انتظار کرتی رہیں، مگر اداکار صرف چند منٹ کے لیے سامنے آئے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”ہم نے پانچ گھنٹے انتظار کیا اور وہ صرف پانچ منٹ کے لیے آئے۔“
مداح کی پوسٹ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو ورون دھون نے بھی اس پر ردعمل دیا۔ اداکار نے کمنٹ سیکشن میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آٹوگراف نہیں دے سکے کیونکہ انہیں پولیس کی جانب سے جلدی روانہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ ورون نے لکھا: ”معذرت، میں آٹوگراف نہیں دے سکا؛ ہمیں پولیس نے تھوڑا جلدی جانے کے لیے کہا تھا۔“
تفصیلات کے مطابق مال میں شائقین کا رش بہت زیادہ ہو گیا تھا، جس کے باعث سکیورٹی اور crowd management کے مسائل پیدا ہوئے۔ اسی وجہ سے پولیس نے مبینہ طور پر ٹیم کو مقررہ وقت سے پہلے مقام چھوڑنے کی ہدایت دی۔ ایونٹ کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مال کی مختلف منزلوں پر مداحوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔
ورون دھون نے بعد میں انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے بھی لکھنؤ کے مداحوں کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگلی بار لکھنؤ آنے پر ٹیم بہتر انتظامات اور بڑے مقام کا خیال رکھے گی تاکہ مداحوں کو اس طرح کی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ورون دھون اس وقت فلم ”ہے جوانی تو عشق ہونا ہے“ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ اس فلم کی ہدایت کاری ان کے والد ڈیوڈ دھون کر رہے ہیں۔ فلم کی کاسٹ میں مرونال ٹھاکر، پوجا ہیگڑے، مونی رائے، چنکی پانڈے، منیش پال، جمی شیرگل، راکیش بیدی اور علی اصغر بھی شامل ہیں۔
یہ فلم 5 جون 2026 کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔
لکھنؤ کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی بن گیا ہے کہ بڑے عوامی ایونٹس میں صرف ستاروں کی موجودگی کافی نہیں ہوتی۔ جب مداح کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں تو بہتر انتظامات، واضح شیڈول اور سکیورٹی پلاننگ بھی اتنی ہی ضروری ہو جاتی ہے۔ ورون دھون کی معذرت نے معاملے کو کسی حد تک نرم ضرور کیا، لیکن مداحوں کی ناراضی یہ بتاتی ہے کہ ایسے ایونٹس میں توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں — اور ذرا سی بدانتظامی بھی خبر بن جاتی ہے۔
